خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد ۱۲ 207 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء پڑے پھر جب وہ بھیگ جائے ، گہری ہو جائے یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اس میں داخل ہوگئیں اقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اور پھر فجر کے وقت بھی تم نے قرآن کی تلاوت کرنی ہے وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِہ اور راتوں کو بھی اٹھ کر تہجد کے ذریعے اپنی راتوں کو زندہ کرنا ہے، پُر نور کرنا ہے نَافِلَةً تک یہ تیرے لئے نفلی طور پر عبادتیں ہوں گی۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا یہ سب پاپڑ بیلے جائیں اگر انسان کی طرف سے، یہ سارے جہاد خدا کی راہ میں ہو جائیں، یہ ساری کوششیں صرف ہوں تو پھر وعدہ ہے کہ خدا تجھے مقام محمود عطا فرمائے گا۔یہ تفصیل اور وعدہ مستقبل کا ایک اور بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کوتو مقام محمود کا مستقبل وعدہ یہ معنی رکھتا ہے کہ مقام محمود میں ترقی ہوتی چلی جائے گی اور ہر آن نئی شان کے ساتھ مقام محمود ابھرے گا اور دیکھنے والوں کو آنحضور ﷺ ایک نئے اور اعلیٰ اور ارفع جلوے پر فائز دکھائی دیں گے اور چونکہ حمد رسول اللہ ﷺ کی امت کا بھی آپ کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ * وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الح: ٣٠) جو احکام حضور اکرم یہ کے لئے خاص ہیں وہ خالی طور پر مومنوں کے اوپر بھی اطلاق پاتے ہیں۔پس یہاں وعدہ مستقبل کا وعدہ لیا جائے تو اُس وعدے میں ہر مسلمان شریک ہو جاتا ہے۔انہیں گویا یہ بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ اللہ نے جو مقام محمود حاصل کیا ہے ، وہ اس طرح حاصل کیا ہے، آرام سے بیٹھے ہوتے ، کھاتے پیتے تو حاصل نہیں کر لیا۔خدا کی راہ میں عبادتوں کی ایک لمبی جد و جہد کی ہے اُس کے نتیجے میں آپ کو مقام محمود عطا b ہوا ہے۔لف پس اگر تم بھی مقام محمود حاصل کرنا چاہتے ہو اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا صبح کا قرآن تو مشہور ہوتا ہے خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن بندوں کو دیکھتے ہیں جو عبادت میں بھی قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں،عبادت کے بعد بھی صبح کے وقت قرآن پڑھتے ہیں وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِہ راتوں کو پھر تہجد بھی پڑھا کرو۔آخری عشرے میں داخل ہوتے وقت تو ایک بہت بڑی تعداد ہے مسلمانوں کی جو تہجد ادا کرتی ہے یا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن رمضان مبارک کے بعد وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں اور