خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد ۱۲ 203 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء کے وقت اگر ایک انسان لفظی طور پر اس دعا سے گزر نہ جائے بلکہ اپنے ذہن میں اپنے گناہوں کو حاضر کرے تو ایک بڑی لمبی مشقت کی رات در پیش ہوگی کیونکہ انسان جتنا کھودتا ہے بچپن سے لے کر اپنی اُس عمر تک جس میں وہ پہنچا ہوا ہو۔اُس کو کثرت سے گناہ اندر سے نکلتے ہوئے دکھائی دیں گے بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سیاہ لباس میں ملبوس گناہوں نے ایک جلوس نکال دیا ہے اور ہر گناہ ایسا ہے جو انسان کی ہلاکت کے لئے کافی ہے اور نافرمانی پر بنی ہے۔تو بہت سے انسان تو ایسے ہیں جن کی زندگی کے اکثر اعمال یعنی غیر معمولی طور پر کثرت سے اُن کے اعمال گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں۔شاذ کے طور پر کوئی نیکی نصیب ہوتی ہے اور جو نیک کہلانے والے ہیں وہ بھی جب ٹٹولتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ محض اللہ کی طرف سے ایک ستاری کی چادر ہے جس کے اندروہ زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن اگر اُن کا اپنا حال دنیا کے سامنے ظاہر ہو جائے تو دنیا میں مکروہ ترین انسان شمار کئے جائیں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اخباروں میں جب پڑھتے ہیں، فلاں شخص سے فلاں بدی سرزد ہوئی اور سارا محلہ اکٹھا ہو گیا اور بڑی اُس کی تشہیر ہوئی ، بڑی تذلیل ہوئی منہ کالے کئے گئے تو ایک آدمی، جاہل آدمی بڑا مزے سے پڑھتا ہے، خوب پکڑا گیا ، اوپر سے یہ تھا، اندر سے یہ نکلا۔اگر اپنے اندر جھانک کے دیکھیں تو اندر جھانکا نہ جائے۔ایسے ایسے، اتنے وجود، اُس کو دکھائی دیں، اپنے وجود کے اندر چھپے ہوئے کہ ہر وجود جب ننگا کیا جائے تو ساری دنیا کی لعنتیں اُس پر پڑیں کتنا غافل انسان ہے دوسروں کے عیوب دیکھنے میں کیسی دلیری دکھاتا ہے، کیسے فخر کے ساتھ اُس کا ذکر کرتا ہے اور پھر لذتوں کے ساتھ اُس کو پڑھتا ہے۔اب انگلستان میں Royal فیملی کی بعض کمزوریاں کھوج کر کے باہر نکالی گئیں جو اسلام کی رُو سے سراسر نا جائز ہے اور ایک ظالمانہ فعل ہے۔کسی کو حق نہیں کہ کسی کی ذاتی کمزوریوں کو کھوج کر کے نکالے اور پھر دنیا کے سامنے اُن کو پیش کر کے جگ ہنسائی کرے لیکن ان قوموں کے کردار بگڑ چکے ہیں ان قدروں کا اب ان کو خیال نہیں رہا۔کھوج کر کے نکالی گئیں اور سارے اُن پر ہنستے اور مذاق اڑاتے ، ٹیلی ویژن پر پروگرام ہوتے حالانکہ وہی ٹیلی ویژن روزانہ روز مرہ کی زندگی کو اُس سے بہت زیادہ بھیانک شکل میں دکھا رہی ہے۔وہ جرائم جو گھر گھر میں ہر وجود کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔وہ اگر فلاں سے سرزد ہو جائے تو ساری دنیا ہنستی ہے اور مذاق اڑاتی ہے یہ دوغلا پن ، یہ