خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد ۱۲ 198 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء دل کبھی بھی اپنے حمد کے خیال سے نہیں بھرا ہمیشہ سے اپنے آپ کو خالی سمجھا۔وہ جو سب سے زیادہ حمد کے لائق انسان تھا اس نے سب سے زیادہ اپنے آپ کو ذاتی طور پر حمد سے خالی سمجھا اور یہ عرفان کے نتیجے میں ہوا، یہ کسی مصنوعی انکسار کے نتیجے میں نہیں ہوا۔عرفان کے نتیجے میں واقعتہ انسان حمد سے خالی ہو جاتا ہے، عرفان کے نتیجے میں اپنی ہر چیز بے معنی اور بے حقیقت دکھائی دینے لگتی ہے۔صرف ایک اللہ کی ذات باقی رہ جاتی ہے باقی سب کچھ مٹ جاتا ہے۔اس مقام کا نام وہ حمد ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ فاتحہ کے تذکرے میں ذکر فرمایا۔اَلحَمدُ فاعلی حالت ہے اُس نے ساری حمد سمیٹ کر، ہر قسم کی حمد کلیۂ ہر دوسرے وجود سے خالی کر کے خود اپنے وجود سے خالی کر کے اللہ کے حضور پیش کر دی جب یہ ہوتا ہے تو حمد کا دوسرا مضمون لازماً جاری ہوتا ہے۔پھر حمد آسمان سے اترتی ہے اُس ذات کے لئے اترتی ہے جس کا نام محمد رکھا گیا ہے۔جسے مقام محمود کا وعدہ دیا گیا ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ جو مقام محمود ہے یہ محمد کے باوجود آئندہ کے بارے میں مذکور ہے یہ عجیب بات ہے اور یہ مسئلہ سمجھنے والا ہے اور محمد تو آپ اُسی وقت ہو گئے جب آپ احمد بنے ، جب خدا کے لئے کامل حمد پیش کی تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وقفے کے توقف کے بغیر خدا کی طرف سے آپ پر حمد نہ اترتی اور وہ حمد اتری تو آپ محمد بنے اس کے بغیر تو آپ محمد بن ہی نہیں سکتے۔پھر یہ مقام محمود کیا چیز ہے؟ در حقیقت یعنی اور بہت سے مضامین ہیں ایک پہلو کی طرف میں آج آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔مقام محمود کسی ایک ٹھہرے ہوئے مقام کا نام نہیں ہے بلکہ ایک جاری، ہمیشہ ترقی پذیر مقام کا نام ہے اور ایسا وعدہ نہیں کہ کسی ایک وقت جا کر پورا ہو جائے اور وہیں ختم ہو جائے۔ایک وعدہ حضرت محمد مصطفی امیہ کی زندگی میں لازماً پورا ہوا ہے۔آپ نے اُس مقام محمود کو پایا ہے تو جان دی ہے۔اُس کے بغیر آپ اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا میں ایک قریب کے مقام کا وعدہ ہے اور اسے دور تک کے لئے ٹالا نہیں جاسکتا۔اس کے باوجود اذان دینے کے بعد حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے جو دعا ہمیں سکھائی کہ تم یہ دعا کیا کرو۔اُس کے آخر پر یہ بھی ہے وابعثه مقاماً محمودا۔کہ اے اللہ ہمارے پیارے وسیلے محمد مصطفی میکو کو مقام محمود عطافرما۔اگر وہ عطا ہو چکا ہے تو پھر عطا فرمانے کا کیا مطلب؟ پس ایک اور آیت کریمہ اس مضمون کو کھولتی ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولى