خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۱۲ 195 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء صلى الله رسول کریم علی احمد کی وجہ سے محمد کہلائے مقام محمود کی لطیف تشریح ، لیلۃ القدر اور تہجد کی اہمیت ( خطبه جمعه فرموده ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں :۔ اقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَلَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل: ۷۹) فرمایا:۔ قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا اطلاق خصوصیت کے ساتھ رمضان کے اُس حصے سے ہے اور ہوتا ہے جس میں ہم داخل ہونے والے ہیں یعنی آخری عشرہ۔ ویسے تو ان آیات کا اطلاق سارے رمضان المبارک سے ہے اور ہوتا ہے بلکہ مومن کے ہر دن اور ہر رات پر ان آیات کا اطلاق ہوتا ہے اور مومن کی زندگی میں یہ آیات ایک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں مگر جب میں کہتا ہوں خصوصیت سے آخری عشرے پر، تو جیسا کہ میں بات کو کھولوں گا آپ کا دل مطمئن ہو گا کہ واقعہ آخری عشرے کے ساتھ تو ان آیات کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ کسی اور عرصے کا اس قدر گہرا تعلق ان آیات سے نہیں ہو سکتا۔ ان آیات میں جو مرکزی نوعیت کی آیت ہے یا مرکزی مضمون : مون بیان ہوا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے مقام محمود پر فائز کئے جانے کا وعدہ ہے۔ یہ مقام صلى الله