خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد ۱۲ 15 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء کے ساتھ ایک ایسا قدم ہو گا جس کے اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے ورنہ محض منہ کی باتیں ہیں۔دوسرے انسان اور انسان کے درمیان نفرتوں کو کم کرنے کے لئے مذہبی لحاظ سے بھی ایسے ضابطہ حیات کی ضرورت ہے جو دنیا کے سب ملکوں کو قابل قبول ہو خواہ وہ قبول کریں یا نہ کریں لیکن قابل قبول ضرور ہو یعنی کوئی عقلی دلیل اس کے خلاف نہ ہو مثلاً اگر یہ ضابطہ اخلاق اسلامی جیسا کہ پاکستان میں آج کل رائج ہے اگر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان ہونے کے باقی سب سے زائد حق حاصل ہیں۔ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ تمہارے مذہب کو تبدیل کریں تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہمارے مذہب کو تبدیل کرو۔اب یہ وہ ایسا پیغام ہے جس کے عالمی ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور غیر عالمی مقامی پیغام اسلام کی طرف منسوب کرنا ظلم ہے۔اس کا جھوٹا ہونا اسی سے ثابت ہے کہ یہ جغرافیائی پیغام ہے جو محدود علاقوں کے لئے ہے۔کتنے ملک ایسے ہیں اور کتنے طاقتور ہیں وہ ملک جن میں اسلام مذہب کے طور پر غالب ہے دنیا کے ممالک کی بھاری اکثریت ایسی ہے جن میں یا تو اسلام کا ذکر ہی کوئی نہیں یا ہے تو بالکل معمولی حیثیت میں ہے اور ایسے پھر بہت سے ملک ہیں جہاں اسلام موجود ہے حیثیت بھی ہے لیکن اکثریت کی طاقت حاصل نہیں ہے۔تو ایسا ضابطہ حیات بعض اسلامی ملکوں میں اسلام کے نام پر اختیار کر لینا جس میں فی ذاتہ زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں۔جس کو کل عالم کا پیغام نہیں بنایا جاسکتا۔قو میں اور قوموں کی فطرتیں اس کو قبول نہیں کریں گی۔ایسے پیغام کو اسلام کے نام پر دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرنا ایک قومی مذہبی خود کشی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔پس ایسا ضابطہ حیات طے کریں اور یہ بات طے کرنے کا شعور اور سلیقہ اسلامی ملکوں کو تب آئے گا جب غیر اسلامی ملکوں سے گفت و شنید کریں گے اور آپس میں صلح کی خاطر امن کی خاطر ایسے سمجھوتے کرنے کی کوشش کریں گے جو دونوں ملکوں میں یکساں قابل عمل ہوں۔جب آپ یہ بات کرتے ہیں تو انسانی قدر مشترک کی بات از خود آجاتی ہے۔پس اس پہلو سے یہ انسانیت کو فروغ دینے کی کوششوں میں سے ایک اہم کوشش ہو گی۔پس ضابطہ حیات طے کریں۔مثلاً جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ عدل کی حکومت ہونی چاہئے اور جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے نہ صرف فرمایا بلکہ کر کے دکھایا۔اگر عالم اسلام مدینہ کا چارٹر جو Charter of Madeena کے