خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد ۱۲ 181 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء سلسلہ چل رہا تھا کہ رمضان کی برکات کیا ہیں، رمضان سے کیا فوائد وابستہ ہیں، کس طرح انسان کو اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہئے ، اس ضمن میں چند احادیث نبویہ آپ کے سامنے تشریحات کے ساتھ رکھتا ہوں۔حضرت امام بخاری کتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان - اس باب میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔یہاں ترجمہ کرنے والے نے غالباً غلط ترجمہ کیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے یہی تو بحث امام بخاری نے اٹھائی تھی۔رمضان کو رمضان کہا جائے یا رمضان کا مہینہ کہا جائے۔اُس بحث کے حل کے طور پر یہ حدیث لے کے آئے ہیں۔اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ اذا جاء رمضان فتحت ابواب الجنة كہ جب رمضان آجائے تو پھر جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔یعنی حضرت رسول اکرم ﷺ اسے لازماً رمضان کا مہینہ نہیں کہا کرتے تھے بلکہ رمضان نام ہی اس مہینے کا ہے۔بہر حال مراد یہ ہے کہ اُن کو تو اس بات سے غرض تھی اس وقت امام بخاری کو کہ یہ ثابت کریں کہ اکیلا رمضان کہنا درست ہے یا غلط یا رمضان کا مہینہ کہنا ضروری ہے۔لیکن جو بات اس حدیث میں ہے وہ اس سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔رمضان کو رمضان کہیں یا رمضان کا مہینہ کہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔اب جہاں تک بوسنیا پر ظلم کرنے والے شیطانوں کا تعلق ہے وہ تو جکڑے نہیں گئے۔یہاں تک دنیا کے مشرقی اور مغربی ممالک میں خدا تعالیٰ سے بغاوت ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرمودات سے اور انسانی قدروں سے بغاوت ہو رہی ہے اور ہر جگہ انسانیت کے نام پر بہیمیت کے کھیل کھیل رہی ہے اُس میں تو کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔خود مسلمان ممالک میں بھی ہر شخص نہ روزے رکھتا ہے، نہ روزے کے دوران روزے کے حقوق ادا کرتا ہے، نہ روزے کے بعد روزے کے حقوق ادا کرتا ہے۔بعض ممالک میں رواج یہ ہے کہ ساری رات گانے کی مجالس لگتی ہیں ، ناچ گانا ہوتا ہے اور خوب عیش و عشرت کے نظارے دکھائی دیتے ہیں اور پھر سحری کے وقت کچھ کھا کر روزہ شروع کر دیا