خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد ۱۲ 14 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء ماحول میں ایک زندہ پیغام کی بات کرتا ہے تو اس کا پیغام اسی طرح سنا جائے گا جیسے کہا گیا ہے کہ: دیکھنا تقریر کی لذت کہ، جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے (دیوان غالب :۲۴۲) پس زندہ پیغام کی یہ نشانی ہوتی ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج دنیا غیر انسانی ہوتے ہوئے بھی انسانیت کے لئے ترس رہی ہے۔اس کی گہری فطرت کی یہ آواز ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔پس جب احمدی یہ آواز بلند کرے گا تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ آواز تو دل سے اٹھے گی اور ضرور دل میں جا بیٹھے گی اور پھر وہاں نشو ونما پائے گی اور پھوٹے گی۔پھر اپنے دائیں بائیں دوسرے غیر انسانی لوگوں کو انسان بنانے کے لئے کوشاں ہو جائے گی۔پس ایک تو جلسوں کے متعلق تھا یعنی انسانیت کے موضوع پر جلسے کرنے چاہئیں دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ حکومتوں کو اس نقطہ نگاہ سے آپس میں معاہدے کرنے چاہئیں۔خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نفرتیں پائی جاتی ہیں یا بعض نفرتیں تاریخی طور پر لمبی گہری جڑیں ہمارے ماضی میں پھینکے ہوئے ہیں اور جمائے ہوئے ہیں اور حقیقت میں نفرتیں اسی وقت زیادہ خطر ناک بنتی ہے جب اس کی جڑیں زیادہ دور تک ماضی میں دراز ہو چکی ہوں۔مذہبی نفرتوں کا بھی یہی حال ہے ، قومی اور سیاسی نفرتوں کا بھی یہی حال ہے۔نفرت کی وہ تاریخ پیچھا نہیں چھوڑتی۔بعض بد بخت کھود کر وہ نکالتے ہیں اور پھر ماضی کی نفرتوں کو حال میں اور مستقبل میں تبدیل کرتے رہتے ہیں ان کا کام ہی یہی ہے۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ حکومتوں کے درمیان سمجھوتے ہونے چاہئیں اور ایک ضابطہ حیات طے ہونا چاہئے۔مثلاً پاکستان اور ہندوستان کے درمیان یہ جو ہندو مسلمان کی ایک تاریخی نفرت ہے اور بعض دفعہ یہ سکھ مسلمان نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے ،بعض دفعہ ہندو سکھ نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے ، بعض دفعہ اچھوت اور غیر ا چھوت نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ ساری وہ نفرتیں ہیں جن کی جڑیں ہندوستان کی تاریخ میں سینکڑوں سال تک گہری ہیں اور ان کے متعلق جب تک پاکستان اور ہندوستان اور بنگلہ دیش کی حکومتیں مل کر یہ فیصلہ نہ کریں کہ ہم اپنے اپنے ملک میں اس قسم کی نفرتوں کو نہیں پنپنے دیں گے اور اس ضمن میں بعض اصولی فیصلے کر کے اپنے اپنے ملک کے قوانین میں ان فیصلوں کو داخل نہ کریں نفرتوں کو مٹایا نہیں جاسکتا۔اگر ایسا کریں گے تو یہ سنجیدگی