خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۱۲ 174 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء کہ ہر ایک کو اپنے فوائد دکھائی دینے لگتے ہیں۔پھر فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبُ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ نام بیچ میں مضمر ہے سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِي قَرِيب جب میرے بندے تجھ سے یہ سوال کریں کہ میں کہاں ہوں؟ تو ان کو بتا دو کہ میں قریب ہوں أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ جب بھی مجھے کوئی پکارنے والا پکارتا ہے میں اس کی آواز کا جواب دیتا ہوں۔فَلْيَسْتَجِيبُوانی پس ان کو بھی چاہئے۔ایسے لوگوں کو میری بات کا بھی تو جواب دیا کریں۔یہ تو نہیں کہ یکطرفہ سلسلے محبت کے چلیں۔ان کو مصیبت پڑے، مشکل میں مبتلا ہوں۔وہ آواز دیں کہ اے خدا ! کر دے یہ کام اور میں فوراً دوڑا دوڑا جاؤں اور یہ کام کر دوں۔جب میں ان کو بچانے کے لئے آوازیں دوں کہ آگ کے گڑھے میں نہ پڑو، فلاں خطرے سے بچو۔فلاں نقصان سے بچنے کی کوشش کرو۔تو وہ پیٹھ پھیر کر اپنے نقصانات کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں اور میری آواز کا جواب نہ دیں۔یہ نہیں ہوسکتا۔فرماتا ہے میں قریب تو ہوں لیکن اُس شخص کے قریب ہوں جو میرے قریب رہتا ہے۔جو میری باتوں کا جواب دیتا ہے میری باتوں پر عمل کرتا ہے۔جو مجھ سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اس کے میں قریب نہیں ہوں وہ تو فاصلے خود بڑھا رہا ہے۔میرے اور اپنے درمیان۔پس فَانّي قَرِيبُ کا مضمون یہ بیان فرما کے پھر فرمایا وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پس چاہیے کہ وہ لوگ مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔یہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ایک تو اس کا تعلق براہ راست رمضان سے بھی ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِي قَرِيبٌ یہ سارا مضمون رمضان کا بیان ہو گیا۔اس کی اصل جزا کیا ہے۔یہ شکر تک بیان ہوا ہے کہ شکر تو کرتے ہیں لیکن جزا کی تفصیل نہیں بیان ہوئی تھی۔اب دیکھ لیں اتنی بڑی نیکیاں ہیں اور جزا کی کوئی تفصیل بیان نہیں ہوئی حالانکہ اس سے پہلے جو معمولی سی نیکیوں کا بھی ذکر اور جہاں قرآن کریم میں ملتا ہے وہاں جزا کی بہت تفصیل بیان ہوتی ہے۔ہدایت اور بینات اور ھدی اور الفرقان کا قرآن کے حوالے سے ذکر ہے۔ہم نے تفصیلاً یہ معنے کئے اس مہینے سے جب وہ گزرتے ہیں تو انہیں یہ چیزیں نصیب ہوں گی مگر یہ تو خود نیکیاں ہیں جزا تو نہیں۔ایک معنے میں جزا بھی ہیں لیکن فی ذاتہ نیکیاں ہیں جن کی جزاملنی چاہئے۔تو جزا کا کوئی ذکر