خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد ۱۲ 173 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء فائدے کا مزا اٹھاتا ہے۔اس میں ایک یہ وعدہ ہے کہ جب تم روزوں میں سے گزارو گے تم میں سے بعض مشکل محسوس کریں گے ، بڑی تنگی محسوس کریں گے کہ کس مصیبت میں پڑ گئے اور بہت سے لوگ ہیں جو جتنا رمضان قریب آتا ہے اتنا ڈر رہے ہوتے ہیں۔آگئے نا پھر وہی دن۔وہ بختی کے دن، روز صبح اٹھنا، روز صبح کھٹے ڈکار، گرمی ہو تو پیاس، سردی ہو تو بھوک، کن کن مشکلوں میں سے ہم نے گزرنا ہے۔آدھی راتوں کو ہم نے اٹھنا ہے۔وہ دن آرام کے ختم ، عیش کی راتیں ختم۔یہ سوچیں لے کر رمضان میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔لیکن جو خدا کی خاطر برداشت کرتے ہیں وہ شکر ساتھ ساتھ کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ہر رمضان گزرنے کے بعد ان کا نفس گواہی دیتا ہے وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس رمضان کا ان کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔بے وجہ کی چر بیاں جو چڑھا بیٹھے تھے سستیوں میں۔وہ جھڑ جاتی ہیں اور گناہوں کی میل جو چڑھ گئی تھی اور چھٹی بیٹھی تھی۔وہ اترنے لگتی ہے اور بعض انسان چتکبرے بن کر نکلتے ہیں۔یعنی ایک انسان بہت دیر سے نہایا نہ ہو، تو اس کے اوپر میل اور گند اس طرح چمٹ جاتے ہیں کہ جب وہ نہانے کے بعد تولیہ پھیرتا ہے تو کہیں سے میل اترتی ہے کہیں سے چھٹی رہتی ہے لیکن جتنا بھی بدن صاف نظر آنا شروع ہو جائے شکر ہی پیدا ہوتا ہے۔تو وہ لوگ جو چتکبرے بن کر نکلتے ہیں وہ بھی شکر کر رہے ہوتے ہیں کہ شکر ہے کوئی گند تو ہٹا۔ہم نے اپنی جلد کی اصل صاف صورت تو دیکھ لی۔کس طرح ہم پیدا ہوئے تھے۔یہ حسین فطرت ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا تھا۔ہر مولود جو فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کا کچھ نظارہ تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور پھر مزید کی تمنا پیدا ہو جاتی ہے۔کچھ ایسے ہیں کہ جن پر تھوڑے سے داغ لگے ہوتے ہیں اور وہ دھل کر صاف ہو کر نو زائیدہ بچے کی طرح جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے معصوم پیدا ہوا ہو اس طرح رمضان میں سے گزرتے ہیں اور ان کا رد عمل شروع سے شکر کا ہی ہوتا ہے۔رمضان پاس آ رہا ہوتا ہے تب بھی وہ شکر گزار ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ جانتے ہیں کہ رمضان اگر فرض نہ ہوتا تو اس کے فائدے دیکھنے کے باوجود ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے ان فائدوں سے محروم رہتے۔جیسا کہ سارا سال گزر گیا۔اور اللہ کی شان ہے ہم جانتے ہیں کہ فائدہ مند ہے۔ہمیں شوق بھی ہے ان فائدوں کا لیکن انسانی کمزوری راہ میں حائل تھی۔اللہ نے فرض کر کے زبردستی ان سے گزار دیا۔تو وہ بھی شکر کر رہے ہوتے ہیں۔پس شکر کا مضمون بتاتا ہے