خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد ۱۲ 166 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء جو اس کی طاقت نہیں رکھتے۔فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْن۔یہاں طاقت نہیں رکھتے کا مفہوم اَيَّامٍ أُخَرَ سے متعلق ہو جائے گا۔مراد یہ ہوگی کہ ہم جو کہتے ہیں کہ جو مریض ہو یا سفر پر ہو وہ بعد میں روزے رکھ لے لیکن اگر کسی شخص میں بعد میں روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو۔یعنی مرض لمبی ہوگئی اور دائگی بن گئی یا کوئی اور ایسی باتیں رستے میں حائل ہو گئیں۔جن کے نتیجے میں بعد میں روزہ رکھنے کی توفیق نہ مل سکے تو فرمایا پھر ان کے لئے پھر یہ طریقہ ہے کہ وہ فدیہ دے دیا کریں۔تو دیکھیں ایک ہی لفظ نے منفی اور مثبت معنے بیک وقت ادا کئے اور مضمون کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو گئے۔پھر فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ له اس نے ، یہ مضمون جو میں بیان کر رہا ہوں ، اس کو مزید طاقت دی ہے۔فرمایا فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ جوشخص طاقت رکھتا ہو اور خرچ کرے اور جو شخص بعد میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اس لئے خرچ کرے ان دونوں مضامین کے بیک وقت بیان ہونے سے انسان کا مزاج اس طرف جا سکتا ہے کہ میں چونکہ بعد میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں اس لئے میرے لئے ضروری نہیں ہے کہ میں کسی غریب کو کھانا کھلاؤں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ضروری نہ بھی ہو۔تو یہ بات سوچ لو فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ له کہ جب نیکیوں کی بات کی جاتی ہے تو عقل والے ضروری کی بحث میں نہیں پڑا کرتے۔وہ جانتے ہیں کہ نیکی نیکی ہی ہے اس کا فائدہ ہی پہنچے گا اس لئے وہ ہمیشہ اپنے لئے احتیاطی پہلو اختیار کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ نیکی سے فائدہ ہی ہے۔نقصان تو کوئی نہیں۔اس لئے جو بھی خدا کی مراد ہے دونوں صورتوں میں اسے پورا کرنا چائے وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اور پھر فرمایا کہ اگر تم روزہ رکھو تو یہ بہتر ہے یعنی فدیہ دینے کے باوجود پھر بھی روزہ رکھو اور فدیے کو روزہ کا بدل نہ سمجھو کیونکہ روزہ اپنی ذات میں جو فوائد رکھتا ہے فدیہ وہ فوائد نہیں رکھتا۔اس لئے فدیے کو کسی طرح بھی روزے کا بدل نہ سمجھنا۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَتٍ مِّنَ الهدی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔اس پر مفسرین نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ سارا قرآن کریم تو رمضان کے مہینے میں نازل نہیں ہوا، آغاز ہوا ہے۔اس کا جواب پہلے بھی میں خطبات میں دے چکا ہوں۔یعنی مختلف مفسرین پہلے ہی یہ بات پیش کر چکے ہیں خود ہی کہ اس کے