خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد ۱۲ 164 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء اب میں ان آیات کریمہ کا ترجمہ کرتا ہوں جو میں نے تلاوت کی تھیں اور ان میں رمضان المبارک کے بہت ہی گہرے اور بہت پر لطف مضامین بیان ہوئے ہیں۔پہلے تو یہ فرمایا یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کہ اے ایمان لانے والو یعنی وہ جو محمد مصطف اللہ پر ایمان لائے ہو تم پر اسی طرح روزے فرض کر دیئے گئے ہیں كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے۔یعنی روزے کا مضمون ایک عالمی دینی مضمون ہے۔ان مضامین سے تعلق رکھتا ہے جنہیں ہم ” كُتُبُ قَيْمَةٌ ( البينة: ۴) کہہ سکتے ہیں یعنی ایک ایسا مضمون ہے جس کا ہر مذہب سے تعلق ہے اور امر واقعہ یہ ہے جہاں تک میں نے نظر ڈال کر دیکھا ہے دنیا کے تمام مذاہب میں روزوں کا تصور ہے خواہ روزوں کی تعریف بدل جائے۔کوئی چھوٹا روزہ، کوئی بڑا روزہ، کوئی آدھا روزہ کوئی مکمل روزہ لیکن روزہ ضرور پایا جاتا ہے کسی نہ کسی شکل میں۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ یہ اس لئے ضروری ہے تا کہ تم دنیا کے فسادوں اور نفس کے فسادوں سے بچ سکو۔یہاں تَتَّقُونَ سے مراد تقویٰ کا آخری مضمون بھی لیا جا سکتا ہے لیکن ابتدائی زیادہ قرین قیاس ہے۔روزہ اس لئے تمہیں دیا جاتا ہے تا کہ تم ہر شر سے بچو۔کسی شر میں ڈالنے کے لئے روزہ نہیں رکھوایا جا رہا بلکہ مصیبتوں تکلیفوں اپنے اور غیر کے عائد کردہ ابتلاؤں اور عذابوں سے بچنے کے لئے یہ ایک ذریعہ ہے۔فرمایا آیا ما مَّعْدُولت کہ لمبا عرصہ نہیں تھوڑے سے دن ہیں۔ایک مہینہ ہے دیکھتے دیکھتے کٹ جائے گا۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ ہاں تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ أُخَرَ ایسے شخص کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ روزے جو چھوٹ گئے ہیں بعد میں کسی دنوں میں رکھ لے۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکنین اور وہ لوگ جن کے متعلق فرمایا يُطيقُونَہ اس کے دو ترجمے ہیں، b ط يطيقُونَہ کا جو باب ہے وہ اجازت دیتا ہے کہ اس کا مثبت ترجمہ بھی کیا جائے اور منفی ترجمہ بھی کیا جائے۔يُطيقُونَٹ کا ایک مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو اس کی طاقت رکھتے ہیں اور ایک مطلب یہ ہو گا کہ وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے ، تو بیک وقت ایک ہی لفظ دو مختلف اور متضاد معنوں میں استعمال ہو رہا ہو تو وہ مضمون کے اوپر کیا اثر کرے گا۔یہ دیکھنے والی بات ہے اور کس طرح دونوں