خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد ۱۲ 163 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء ایسا ہے جو محبت سے مغلوب ہوتا ہے اور ان کی زمین تھوڑی سی کٹ کر محبت کی زمین میں شامل ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری ہے، کچھ قدم اور چل کر پھر ماحول بدلتے ہیں ، پھر ایک تنگی کا سامان پیدا ہوتا ہے، پھر اس تنگی سے ایک ٹیسر یعنی آسانی کی حالت پھوٹتی ہے۔تو ہم نے جو سفر کرنا ہے یہ بہت لمبا سفر ہے۔ساری دنیا کو تبدیل کرنا ہے، سب نفرتوں کو مٹا کر ان کی جگہ محبتیں پیدا کرنی ہیں اور ہر بے امنی کو ہٹا کر اس کی بجائے امن قائم کرنا ہے۔یہ کوئی آسان سفر نہیں ہے ہمیں اس راہ میں قربانیاں دینا پڑیں گی۔جب امن پھیلانے کی کوشش کریں گے تو لوگ ہمارے لئے بدامنی پیدا کریں گے۔جب ہم یہ کوشش کریں گے کہ انسان دوسرے انسان کا خون بہانا بند کر دے تو لوگ کہیں گے اچھا! ہم تمہارا خون بہاتے ہیں پھر! کیونکہ خون بہانے کی عادت تو بڑی گندی ہے یہ تو پیچھا نہیں چھوڑتی۔تو کسی نہ کسی کو تو قربانی کا بکرا بنایا ہی جاتا ہے۔اس لحاظ سے وہ لوگ جو خوشی سے اپنی جانیں قربانی کے لئے پیش کرتے ہیں نہ کہ جان لینے کی خاطر بلکہ جانیں بچانے کی خاطر اپنی جانیں دیتے ہیں وہ لوگ ہیں جو خلیفتہ اللہ کے متبعین ہیں اور ان کا مقدر یہی ہے ، یہ تو جاری وساری ہے کوئی دانشور جتنی چاہے تنقید کرلے اس تقدیر الہی کو بدل نہیں سکتا جو خدا کے بندے ہیں وہ خدا کے بتائے ہوئے رستوں پر ضرور چلیں گے خواہ اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں پیش کرنی پڑیں۔لیکن دعا ضروری ہے۔قرآن کریم نے جہاں حسد کا مضمون بیان فرمایا وہاں دعا سکھائی۔فرمایا ایسے موقعوں پر تم دعاؤں کے ذریعے اس شر سے بچ سکتے ہو اور دعاؤں ہی کے ذریعے ان مخفی پلنے والے شروں کے شر سے بچ سکتے ہو جو تمہیں دکھائی نہیں دے رہے۔کسی دل میں حسد پیدا ہوا اس کے نتیجے میں شر پیدا ہوئے ، ان شروں کے نتیجے میں آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔تم بیچاروں کو کیا پتا جو امن کے بندے ہو۔جو محبت کے پیغمبر ہو تمہیں کیا پتا کہ نفرت کے پیغمبر تمہارے لئے کیا کیا سوچ رہے ہیں۔اس لئے اللہ عَلِیمِ الْغَيْبِ (المومنون : ۹۳) ہے اس کی پناہ میں آؤ جس وقت تم اس کی پناہ میں آؤ گے اور یہ دعا کرو گے مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (الفلق :۶) اے خدا جب بھی جہاں بھی کوئی حاسد حسد کے نتیجے میں شر پھیلانے کی کوشش کرے اُس حسد سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پھر ان دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور اپنے کمزور اور بے طاقت بندوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔