خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد ۱۲ 162 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء عرض کیا کہ اے خداوہ خلیفہ جو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ غلط کہہ رہے ہو۔خون نہیں بہایا جائے گا اور فساد نہیں ہو گا لیکن ان کی اس بات کو رد کر دیا ان معنوں میں کہ اُس کی ذمہ داری خلیفہ اللہ پر نہیں ہوگی ان لوگوں پر ہوگی جو اس کے مقابل پر آ کر فساد کریں گے اور خون بہائیں گے تو جب بھی نظام بدلے جاتے ہیں، جب بھی دلوں میں ایک وسیع تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جب بھی شیطان کی حکومت مٹا کر الہی حکومت کے قیام کا زمانہ آتا ہے تو لازماً دوسری طاقتیں ردعمل دکھاتی ہیں۔اس کا یہ نتیجہ نکالنا کہ کوشش کرنی ہی نہیں چاہئے تھی جس کے نتیجے میں یہ ہو، اگر یہ نتیجہ نکالنا درست ہے تو پھر بھی خلافت کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا تھا۔خدا تعالیٰ کا پہلا خلیفہ جو خلیفہ اللہ کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی یعنی حضرت آدم علیہ السلام بحیثیت نبی اللہ، وہ ہی پیدانہ ہوتے اور پھر یہ خلافت حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات میں اپنی انتہا کو نہ پہنچتی ، اپنے منتہا کو نہ پہنچتی اور وہ کامل وجود پیدا نہ ہوتا جس کے مقابل پر تمام دنیا بیچ ہے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا لولاک لما خلقت الافلاک۔(روح المعانی صفحہ جلد اول صفحہ :۷۰) اے محمد ! تیری قیمت میری نظر میں اتنی ہے کہ اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو ساری کائنات، ان زمانوں کو، میں پیدا نہ کرتا یعنی تو ماحصل ہے میرے تخلیقی نظام کا اور تمام تخلیقی نظام اس غرض سے بنایا گیا کہ بالآخر اسے وہ پھل لگے جس کا نام محمد ہے ہے تو یہ سارا دور جو گزرا ہے محمد یت تک کا دور یہ فساد اور خون کے رستوں سے گزرا ہے۔جب حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا خون احد کی سرزمین میں گرا تو ہر قطرہ اس بات کا گواہ تھا کہ خلیفة اللہ اس خون کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ وہ ظالم ذمہ دار ہیں جنہوں نے دنیا کے سب سے معصوم انسان کا خون بہایا ہے۔پس فساد کو مٹانے کے لئے جب کوشش کی جاتی ہے تو فساد پیدا ہوتا ہے۔جب خون بہانے کے رجحان کو توڑا جاتا ہے اور اس کا رخ بدلا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پھر خون بہایا جاتا ہے اور ان دونوں صورتوں میں ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو محبت کا جواب نفرت سے دیتے ہیں، جو عقل کا جواب جہالت اور ظلم سے دیتے ہیں۔وہ لوگ ذمہ دار نہیں جو پیار پھیلاتے ہیں، جو امن پھیلاتے ہیں، جو دنیا سے محبت کی باتیں کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انسان انسان کے قریب آئے۔پس نفرت کی تعلیم دینے والے اپنارد عمل ہمیشہ نفرت ہی میں دکھائیں گے۔ہاں ایک حصہ ان میں سے