خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۱۲ 161 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء خوشی سے اٹھانا چاہئے پھر جوں جوں تربیت ہوگی پھر اور مددگار ساتھ شامل ہونا شروع ہو جائیں گے۔یہ پروگرام ایسے ہیں جنہوں نے ابھی بہت پھیلنا ہے۔ابھی تو ایک جمعے کے اوپر ہماری توجہ ہے۔زبانیں بڑھائی جا رہی ہیں پہلے صرف اردو اور انگریزی میں پیغام پہنچتا تھا اب عربی بھی شامل کر دی گئی ہے۔Spanish بھی عنقریب شامل ہو جائے گی۔جرمن اور روسی زبان میں انشاء اللہ ساتھ ساتھ تراجم شروع ہو جائیں گے۔تو یہ نظام جب پوری طرح مستحکم ہو جائے گا اور اس حصے پر کاٹھی پڑ جائے گی تو پھر انشاء اللہ اور سواریاں بھی بنیں گی اور اور بھی انتظام چلیں گے۔بعض دوست بڑے گھبرا گھبرا کر لکھتے ہیں کہ شاید آپ کی توجہ ادھر نہیں گئی۔یہ بھی ہونا چاہئے وہ بھی ہونا چاہئے ، اس قسم کے پروگرام جاری ہونے چاہئیں ان کو میں مطمئن کرنا چاہتا ہوں کہ وہ سارے پروگرام نہ صرف ذہن میں موجود ہیں بلکہ مختلف ذمہ دار آدمیوں کے سپرد ہیں ان کے اوپر وہ کام شروع کر چکے ہیں لیکن ایک گھنٹہ کا ایسا پروگرام جو تمام عالم میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ دکھایا جاتا ہو اس کی تیاری میں ایک گھنٹہ صرف نہیں ہوا کرتا اس کی تیاری میں بعض دفعہ سینکڑوں گھنٹے صرف ہوتے ہیں تو ان باتوں کو دوست پیش نظر رکھیں ،صبر سے کام لیں۔خدا کی دی ہوئی توفیق سے اب یہ جو کام چلا ہے اس نے تو چلنا ہی چلنا ہے رکنے والا کام نہیں ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ پھیلے گا۔اسی تعلق میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب بھی انسان نیکی کا کوئی قدم اٹھا تا ہے تو اس کے مقابل پر حسد پیدا ہوتا ہے اور حسد سے شرکا شرارہ نکلتا ہے جو ارد گرد ماحول میں آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ تقدیر ہے مومنوں کی جسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔بعض لوگ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ کیوں اتنا زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی، کیوں تعلقات بڑھانے کی کوشش کی ، کیا عقل نہیں تھی کہ اس کا نتیجہ نکے گا اور حسد پیدا ہو گا اور شرارتیں پیدا ہوں گی۔میں ایسے دوستوں کو، ایسے دانشور عموماً حالات گزرنے سے پہلے نہیں، حالات گزرنے کے بعد پیشگوئیاں کیا کرتے ہیں۔ان کو بتا تا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ مجھے علم ہے بلکہ جب سے خدا تعالیٰ نے دنیا میں خلافتہ اللہ کا نظام جاری فرمایا ہے ہر خدا کے خلیفہ کو علم ہے اور وہ جو خدا کے خلفاء کے خلفاء ہیں جیسا کہ میں ادنیٰ انسان ہوں خدا کے خلیفہ کے خلیفہ کا خلیفہ ہوں۔اس کو بھی علم ہے اور یہ وہ علم ہے جو زمانے کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ ذکر فرمایا کہ میں خلیفتہ اللہ بنانے لگا ہوں تو فرشتوں نے ادب سے