خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد ۱۲ 160 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء کا رخ بدل جاتا ہے، دوبارہ کریں تو پھر اسی طرف پلٹ جاتا ہے۔اس طرح خدا کے ہاتھ کی دوانگلیوں میں یہ انسان کا دل ہے۔جب چاہے ان کا رخ جس طرف چاہے پھیر دے۔(مسلم کتاب القدر ) پس یہ مضمون بتاتا ہے کہ اگر چہ اب خدا کے فضل کے ساتھ اسلام اور قرآن اور محمد رسول اللہ کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہے مگر خدا ان دلوں کو سننے والے، قبول کرنے والے دل بنادے۔ان کانوں کو سننے والے اور دلوں تک پیغام بھیجنے والے کان بنادے ان آنکھوں کو دیکھنے والی آنکھیں اور پھر اپنے ذہنی اور قلبی تصورات میں ان نقوش کو جما دینے والی آنکھیں بنا دے جو محمد رسول اللہ اللہ کے نقوش ہیں۔ایسی صورت میں انشاء اللہ تعالیٰ پھر بڑی تیزی کے ساتھ دنیا میں اسلام پھیلے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے وہ تمنا کہ میں گاؤں گاؤں پہنچوں اس طرح پوری کر دی اور وقف جدید سے جو میراتعلق قائم ہوا اور پہلے نمبر پر مجھے رکھا گیا۔اب میں سمجھتا ہوں کہ خدا کی نقد ی تھی ، میرے ذریعے ہی خدا نے یہ توفیق دینی تھی کہ میری تمنا ئیں پوری ہوں اور میں خود گاؤں گاؤں پہنچ جاؤں اور اس کا میں انتظار کر رہا تھا کہ ذرا اور زیادہ یہ باتیں پھیل جائیں تو پھر انشاء اللہ تربیتی مضامین کا سلسلہ شروع کیا جائے۔پہلے بھی ایک لمبا سلسلہ تربیتی مضامین کا گزر چکا ہے مگر اکثر احمدیوں تک یا اُن جماعت سے باہر دوستوں تک جو ہمارے خطبات سنتے ہیں وہ نہیں پہنچ سکا اور ہر کوشش کے باوجود جماعت کی بھاری اکثریت ان سے محروم رہی۔اس لئے بعینہ وہی تو نہیں لیکن مضامین کم و بیش وہی رہیں گے اور انشاء اللہ اس سلسلے کو دوبارہ مختلف رنگ میں جاری کیا جائے گا۔ایک اور بات جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اب جتنے زیادہ سیٹلائٹس ہم استعمال کر رہے ہیں اتنا ہی زیادہ خرچ بڑھ رہا ہے اور جماعتیں اللہ کے فضل کے ساتھ اس فیضِ عام میں شامل ہیں خواہ وہ ایک آنہ بھی ادا کریں یا نہ ادا کریں۔یہ تو اللہ کی طرف سے رحمت کی بارش کا سا حال ہوا کرتا ہے۔بعض زمینیں اس رحمت کی حقدار ہوتی ہیں، بعض نہیں ہوتیں سب پر پڑتی ہے۔تو یہ جو فیض ہے۔آسمان کے ذریعے خدا کی طرف سے دین کی آواز پہنچانے کا فیض ، یہ تو عام ہے لیکن کچھ جماعتوں پر دوسروں کی نسبت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اس کا حق ادا کریں جو تربیت کے لحاظ سے اللہ کے فضل سے صف اول میں ہیں سر دست زیادہ بوجھ ان پر ہی پڑے گا۔ان کو یہ بوجھ