خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد ۱۲ فرمایا:۔158 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء سورۃ البقرہ کی آیات ۱۸۴ تا ۱۸۷ میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان کا تعلق رمضان سے اور رمضان کی عبادات اور اُن کے فوائد سے ہے لیکن ان کا ترجمہ پیش کرنے سے پہلے میں چند عمومی باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ہے۔آج جمعے کی شکل میں وہ مبارک دن طلوع ہوا ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو دین کی اشاعت کی راہ میں ایک اور سنگ میل رکھنے کی توفیق عطا ہوئی ہے اور ایک تیسر اسیٹلائٹ سٹیشن ہمیں ملا ہے جس کے نتیجے میں اب وہ حصے دنیا کے جن میں پہلے خلا تھا وہاں بھی اب خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی طرف سے اسلام کا پیغام صوتی اور نظری صورت میں پہنچایا جاسکتا ہے پہنچایا جا سکتا ہے، سے مراد یہ ہے کہ پہنچ رہا ہے یعنی جس کے سننے کے کان ہوں وہ سنے اور جس کی دیکھنے کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے، حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول میں بھی تمثیل بیان فرمائی گئی تھی وہ یہی تھی کہ جو مولوی سیڑھیاں لگائیں گے اُنہی کے پاس وہ آئے گا یعنی آسمان سے تو اترے گا لیکن کوئی سیٹرھیاں ہی نہیں لگائے گا، اپنا دل ہی پیش نہیں کرے گا تو کیسے اُس کے دل میں جاگزیں ہوگا۔تو یہ مضمون بڑا دلچسپ مضمون ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ تو فیق کا تعلق ہے آج احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام یا احمدیت تو ایک ذریعہ اور شاخ ہے یوں کہنا چاہئے کہ اُس اسلام کا پیغام ہے جو قرآن کا پیغام ہے، اس اسلام کا پیغام ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا پیغام ہے۔وہ آج دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔توفیق کی الگ بات ہے کسی کو توفیق ہے تو وہ سنے اور دیکھے جسے توفیق نہیں ہے تو اس کی تو فیق کو بدلنا بندے کا کام نہیں وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔مجھے یاد ہے جب میں وقف جدید اور خدام الاحمدیہ وغیرہ کے سلسلے میں پاکستان کے دیہات کے دورے کیا کرتا تھا اور بنگلہ دیش میں بھی جو اس وقت پاکستان کا حصہ تھا ، جاتا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ دوروں کے نتیجے میں جماعتوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے اور تمام مرکزی نمائندگان کو خدا تعالیٰ نے یہ استطاعت بخشی ہے کہ جب وہ سفر کرتے ہیں دورہ کرتے ہیں تو جماعت میں ایک نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے لیکن میں نے بطور خاص اپنی ذات میں یہ محسوس کیا کہ چونکہ میرا خونی تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا اس لئے جماعتیں نسبتاً زیادہ اثر قبول کرنے