خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد ۱۲ 12 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء اس پیغام کو سن رہی ہے اس میں چھوٹے بڑے سب شریک ہو جائیں اگر بچے اپنی زبان میں ایک بات لکھ سکتے ہیں تو کیوں نہ لکھیں۔بعض دفعہ بچوں کی زبان دل پر زیادہ اثر کرتی ہے اور واقعہ بڑا گہرا اثر کرتی ہے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ جن بچوں کو کہنا نہیں آتا وہ بھی کچھ لکھ دیتے ہیں تو دل پر اثر پڑ جاتا ہے۔مجھے بعض دفعہ بچوں کے ایسے خط آتے ہیں کہ اپنی طرف سے انہوں نے ایک بہت خوبصورت عبارت لکھ کر بھیجی ہوتی ہے اور وہ صرف گول مٹول حروف ہیں اور چکر لگائے ہوتے ہیں جیسے کسی مکھی کو سیاہی میں بھگو کر کاغذ پر پھر ادیں یا مکڑی کو سیاہی میں بھگو کر کاغذ پر پھر دیں اور وہ اپنے والدین سے کہتے ہیں کہ میں نے اپنی طرف سے ایک بہت اچھا خط لکھا ہے اس پر پتا لکھ کر آپ بھیج دیں اور مجھے اس کا جواب چاہئے۔چنانچہ اس خط کو پڑھنے کا بڑا مزا آتا ہے بڑا لطف آتا ہے کیونکہ اس خط میں محبت ہی محبت ہوتی ہے اور جس محنت سے وہ بچہ لکھ رہا ہوتا ہے وہ ساری محنت از خود زبان بن جاتی ہے۔تحریر بولنے لگتی ہے۔پتا چلتا ہے کہ کتنا پیارا بچہ، کتنی اس نے محنت کی ہے، کتنا اہتمام کیا ہے، قلم مانگا، سیاہی لی کاغذ کہیں سے پکڑا اور کہیں چھپ کر بیٹھ گیا اور اس نے کہا کہ میں خط لکھ کر لاتا ہوں اور پھر توقع یہ کہ میں بھی اسے جواب دوں، یہ پیغام مجھے زبانی پہنچا ہوتا ہے تو بعض دفعہ میں بھی ویسی ہی تحریر بنا کر نیچے دستخط کر کے بھیج دیتا ہوں اور ماں باپ کو کہتا ہوں کہ گونگے کی بولی ماں باپ ہی سمجھتے ہیں تو آپ بھی یہ زبان سمجھتے ہوں گے۔آپ ان کو بتا دیں کہ کیا لکھا ہے۔پتا نہیں وہ میری زبان ٹھیک پڑھتے ہیں کہ نہیں مگر میں بچوں کی زبان تو ٹھیک پڑھ لیتا ہوں تو بچے بھی لکھیں۔جس حد تک توفیق ہے ملکوں کے سربراہوں کو لکھیں، دانشوروں کو لکھیں، مولویوں کو لکھیں۔پنڈتوں کو لکھیں، پادریوں کو لکھیں اور کہیں کہ خدا کا خوف کرو۔اگر اخلاق دنیا سے اٹھ گئے تو مذہب کا رہے گا کیا؟ اگر انسانیت ہی قائم نہ ہوئی تو کیا حیوانوں سے خدا رشتے کرے گا۔ان حیوانوں میں کیوں خدا نے نبی نہ بھیج دیئے جن سے بد تر تم ہوتے چلے جارہے ہو اس لئے انسان کو انسانیت کے آداب سکھاؤ۔جماعت احمدیہ نے ایک عالمگیر تحریک پیش کی تھی جس کا ذکر میں نے گزشتہ خطاب میں بھی کیا تھا یعنی پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد۔یہ بہت مفید ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اب انسانیت کے نام پر ہمیں جلسے کرنے چاہئیں تحریک بہبود انسانیت کے نام پر تمام دنیا میں جلسے منعقد کرنے چاہئیں۔اس میں صرف مذاہب کے نمائندے نہیں آئیں گے، دہرئیے بھی آئیں گے۔ہر قسم کے