خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد ۱۲ 11 خطبه جمعه ار جنوری ۱۹۹۳ء کے منہ پر ماری جاتی ہے۔ اس لئے بلا واسطہ تو نہیں مگر بالواسطہ یہ لوگ یقیناً ذمہ دار ہیں، جن کے مقاصد زندگی میں یہ بات داخل ہے کہ اللہ کی محبت کے ساتھ بنی نوع انسان کے حقوق کا تصور پیدا کریں، ان کا پیار دلوں میں پیدا کریں اور ظلم وسفا کی کو دنیا سے مٹانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لیکن ایک اور ظلم ہے جس میں یہ بلا واسطہ خود شریک ہوتے ہیں اور وہ ہے کہ مذہب کے نام پر نفرتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور دنیا کے ہر مذہب میں یہ اس کثرت سے اور اس بے حیائی سے ہو رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ ان لوگوں کی عقلیں کہاں گئی ہیں ۔ مذہب کے اعلیٰ مقاصد میں خدا کی عبادت ہے اور خدا کی عبادت بندوں کے ساتھ حسن سلوک از خود سکھاتی ہے۔ جس عبادت کے نتیجہ میں انسان خدا کی مخلوق سے دور ہو جائے وہ شیطان کی عبادت تو قرار دی جاسکتی ہے اللہ کی عبادت قرار نہیں دی جاسکتی ، اس عبادت کا کیا فائدہ، جس کے نتیجہ میں خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کر دیئے جائیں اور خالق کے نام پر مخلوق پر ظلم توڑے جا رہے ہوں ۔ پس اس وقت مذہبی بحثوں کا وقت نہیں ہے وہ بھی جہاں مناسب ماحول ہو چلیں گی لیکن انسانیت کو اس وقت انسان بننے کا پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ انسانی قدروں کے لئے ایک عالمی سطح کا جہاد جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پہلو سے میں جماعت احمد یہ کو دعوت دیتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ انفرادی طور پر یامن حيث الجماعة جماعت کی طرف سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک دوسروں کو بھی اس معاملہ میں عقل دے کر اور دعوت دے کر ساتھ شریک نہ کریں ہمیں اس پیغام کو عام کرنا ہو گا اور اگر جماعت احمدیہ کی طرف سے مثلاً حکومتوں کے سربراہوں کو بڑے بڑے دانشوروں کو ، اخباروں میں لکھنے والوں کو، جو اہل قلم لوگ ہیں ان کو خطوط لکھے جائیں ان کو سارا سال اس طرف متوجہ کیا جائے اور مختلف تجاویز ان کے سامنے رکھی جائیں تو پھر یہ ایک ایسی کوشش ہے جو ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے دلوں میں بھی تبدیلی پیدا کر دے جو دل با اختیار ہیں جن کے پیچھے ایک قوم ہے ان ہاتھوں میں بھی یہ جنبش پیدا کر دیں جن کو عنان حکومت تھمائی جاتی ہے، جو ان دماغوں میں یہ تبدیلی پیدا کر دیں جن کی فکر قوم کی فکر بن جایا کرتی ہے۔ پس ہر پہلو سے اہل دانش ، اہل قلم ، اہل دل لوگوں کو جماعت احمدیہ کی طرف سے سمجھا بجھا کر محبت سے، پیار سے یہ باتیں پہنچانی ضروری ہیں اور آئندہ سارا سال دنیا کی ہر جماعت جو میرے