خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد ۱۲ 141 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء جاپانی ٹیلی ویژن سے رابطے کر کے ان کے ذریعہ دکھائی جاسکتی ہیں غرضیکہ یورپ کے ممالک میں بکثرت ایسے مواقع ہوں گے۔افریقہ تو بہر حال اللہ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے اتنے اثر میں ہے کہ وہاں یہ کام بالکل مشکل نہیں ہے۔تو دنیا کے کونے کونے میں یہاں تک کہ نجی آئی لینڈ میں بھی اگر ٹیلی ویژن موجود ہو تو وہاں بھی ٹیلی ویژن کے ذریعہ یہ جو حقائق پیش کئے گئے ہیں یہ سب دنیا کے سامنے لانا چاہئیں۔بوسنیا کی خدمت کے سلسلے میں یورپین جماعتیں اللہ کے فضل سے بہت ہی مستعد ہیں اور بڑے گہرے اور وسیع رابطے ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی خدمت پر بعض چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی انتھک مامور ہیں اور جتنا خدمت کرتی ہیں اتنا ہی ان کا خدمت کا جذ بہ بڑھتا جاتا ہے، تھکتے نہیں ہیں۔شروع شروع میں بعض دوسری مسلمان تنظیموں نے بھی کام شروع کیا اور مجھے بعض دوستوں نے بتایا کہ وہ کر رہی ہیں میں نے کہا بہت اچھی بات ہے، آپ ان کی مدد کریں مجھے یہ خطرہ نہیں ہے کہ وہ میدان میں آئیں گے تو ہماری ساکھ خراب ہوگی۔مجھے ڈر یہ ہے کہ کچھ دیر کے بعد تو وہ تھک کر چھوڑ دیں گے اور صرف آپ کو کیلے کام کرنا پڑے گا۔تو اب جو حالات سامنے آرہے ہیں یہی کیفیت ہے۔اکثر جگہ یا وہ تھک کر چھوڑ گئے ہیں یا اس رنگ میں خدمت کی کوشش کی جس کا بہت ہی برا اثر پڑا ہے۔مثلاً بعض جگہ (اب نام لینا مناسب نہیں ) احمدی وفد جب ایک کیمپ میں پہنچا تو وہاں کے مسلمان بوسنین مہاجرین نے ملنے سے انکار کر دیا اور وجہ یہ بتائی کہ اس سے پہلے ایک مولویوں کا وفد آچکا ہے اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی مسلمان سے ملاقات نہیں کرنی بڑی منت سماجت سے سمجھا کر ان سے کہا کہ ہمیں کچھ موقع تو دو بتاؤ تو سہی کیا ہوا تھا۔تو بتایا یہ کہ ایک مولویوں کا وفد آیا ہمیں دین سکھانے کے لئے اور جب ہم نے ان کو بتایا اور ان سے گزارش کی کہ ہمارے حالات تو سنو کہ ہم پر کیا بیت رہی ہے۔تو حالات میں دلچسپی لینے کی بجائے انہوں نے کہا ہمیں صرف یہ بتاؤ پہلے کہ تم نے ختنے کروائے ہوئے ہیں کہ نہیں کہتے ہیں ہم حیران رہ گئے ہمارے سرکٹ رہے ہیں، ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ہمارے سینے چھلنی ہیں اور ان ظالموں کو یہ فکر پڑی ہے کہ ہم نے ختنے کروائے ہوئے ہیں کہ نہیں یہ لطیفہ نہیں ہے کہ ہنسنے کی بات نہیں ہے، بہت درد ناک واقعہ ہے۔کہتے ہیں ایسی نفرت ہوئی ہمیں اسلام سے یا اس قسم کے