خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد ۱۲ 140 خطبہ جمعہ ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء راجستھان کا علاقہ ہے وہاں بھی اور یوپی کے مختلف علاقوں میں جماعت نے بر وقت مسلمان اور ہندو لیڈروں سے مل کر ان کو عقل دی سمجھایا اور خدا کے فضل سے وہاں ہر قسم کے خطرات ٹل گئے۔اب میں آپ کو بوسنیا سے متعلق کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں بوسنیا کے مسلمانوں پر جوگزررہی ہے اس کے متعلق جتنا بھی بتایا جائے وہ کم ہوگا اتنا دردناک، اتنا دلوں کو ہلا دینے والا ظلم وہاں تو ڑا گیا ہے کہ اس کے ذکر سے بھی انسان یعنی میرے جیسا انسان تو کم سے کم لرز اٹھتا ہے اور توفیق نہیں پاسکتا کہ ذکر کرے۔انسانی طاقت سے اس کا ذکر بڑھ کر ہے۔پس جس دردناک عذاب کے ذکر کی نوعیت یہ ہو کہ ذکر کی طاقت سے بڑھ جائے وہاں کیا ہوا ہوگا کیا گزری ہوگی اس کا آپ حقیقت میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس ضمن میں جو کارروائیاں کی جارہی ہیں اس سلسلہ میں ایک فوری کارروائی یہ ہے کہ بوسنیا سے ایک ٹیلی ویژن کا نمائندہ وفد کل سے یہاں آیا ہوا ہے اور سویڈن کے کچھ نمائندے جو اس خدمت میں پیش پیش ہیں وہ بھی یہاں پہنچے ہوئے ہیں ان کے ذریعہ ہمیں بہت سی ویڈ یولیسٹس ملی ہیں اور وہ بتارہے تھے وہ بیچارے بالکل اس معاملے میں بے بس ہیں بہت تھوڑا ہے جو دنیا کے ٹیلیویژن پر دکھایا جاتا ہے اور بوسنیا کی حکومت اس وقت جس قسم کے مختلف مسائل میں گھری ہوئی ہے ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ اقتصادی مسئلہ ہے فوجیوں کو وردیاں تک لے کر دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ہتھیار خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ٹیلی ویژن کے ذریعہ پروپیگنڈا تو بعد کی باتیں ہیں تو انھوں نے درخواست کی کہ ہماری طرف سے جماعت احمدیہ یہ خدمت قبول کرے۔میں نے ان کو بتایا کہ ہم تو پہلے ہی اللہ کے فضل سے یہ کر رہے ہیں اور جہاں جہاں جماعت احمدیہ کے ٹیلی ویژن کے پروگرام دکھائے جارہے ہیں مثلاً خطبات میں بھی میں ذکر کرتا ہوں اور ہر جگہ جماعت پھر آگے اپنے اخبارات وغیرہ کے ذریعہ کوشش کرتی ہے کہ آپ کی درد ناک کہانیوں سے دنیا کسی حد تک واقف ہو سکے۔انہوں نے کچھ ویڈیوز جودی ہیں ان کے متعلق میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے ملکوں میں اگر کچھ خرچ کر کے بھی وہ پروگرام ٹیلی ویژن پر دکھائے جاسکتے ہوں تو دکھائے جائیں۔امریکہ میں ایسے کیبل ٹیلیویٹر نز ہیں جن کے ذریعہ کثرت کے ساتھ یہی ویڈیوز وہاں دکھائی جاسکتی ہیں ایسے بعض غیر حکومتی ادارے ہیں وہ بکثرت ایسے ہیں جو چند ڈالرز کے عوض بہت معمولی قیمت پر علاقائی پروگرام دکھاتے ہیں اور وہاں بھی یہ ویڈیوز پیش کی جاسکتی ہیں جاپان میں