خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 10

خطبات طاہر جلد ۱۲ 10 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء صلى الله ہندوستان میں بھی اور وہ جو اسلام کے نام پر جہاد کرنے والے پٹھان ہیں وہ بد قسمتی سے سب سے زیادہ اس میں ملوث ہیں۔عجیب و غریب تضادات کی دنیا بن چکی ہے۔کیسے ہوسکتا ہے کہ انسانی قدریں تو پاؤں تلے روندی جائیں بلکہ ایسی گندی کر دی جائیں کہ ان پر پاؤں رکھتے ہوئے حیا آتی ہو اور باتیں آسمان کی اور الوھیت کی اور خدا کی عزت اور جلال کی ہوں اور محمد رسول اللہ یہ کی حمد وثناء کے گیت گائے جارہے ہوں اور نیچے یہ ہو رہا ہوتو یہ اتنا بڑا تضاد ہے کہ اس تضاد سے طبیعت میں متلی پیدا ہونے لگتی ہے۔پس انسانی قدروں کے لئے ایک عالمی جہاد کی ضرورت ہے اور جماعت کو ہر جگہ اس کو موضوع بنانا چاہئے انگلستان اور یورپ وغیرہ میں یہی بدی اور طرح سے پائی جاتی ہے وہاں بھی پائی جاتی ہوگی لیکن یہاں تو ماں باپ اپنے ہی معصوم بچوں پر ظلم کرتے ہیں یا ان کے رشتہ دار ظلم کرتے ہیں یا ویسے بچوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں زیادتی کی اور پھر بہیمانہ طور پر قتل کر کے پھینک دیا۔یہ ساری ایسی بیماریاں ہیں جو گہری دبی ہوئی ہیں اور جو چند باتیں میں بتا رہا ہوں یہ وہ پھوڑے ہیں جوان گہری بیماریوں میں سے کہیں کہیں سطح پر پھوٹ رہے ہیں۔جب تک سارے خون میں فساد واقع نہ ہو جائے اس وقت تک ایسے مکروہ پھوڑے جسم پر نہیں ہوا کرتے ان بیماریوں کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، انسان کی بڑی بدنصیبی ہے کہ بنیادی انسانی قدروں سے نا آشنا ہو چکا ہے اور جو رہی سہی قدریں ہیں ان کا مذہبی رہنما خون کر رہے ہیں اور ان قدروں کو ملیا میٹ کرنے کے لئے انہوں نے گویا ایک برعکس جہاد کا اعلان کر رکھا ہے۔میری مراد یہ ہے کہ یہ تو انسان کے ایسے مظالم ہیں جن میں کوئی ملاں، کوئی پنڈت کوئی پادری براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ اپنی مسجدوں ، مندروں اور معابد سے یہ اعلان تو نہیں کرتا کہ تم ایک دوسرے پر ایسے ایسے مظالم کرو لیکن بالواسطہ ذمہ دار ضرور بن جاتا ہے کیونکہ اس کی آنکھوں کے سامنے سوسائٹی میں یہ سارے واقعات ہورہے ہوتے ہیں لیکن اس کی انسانیت کی رگ نہیں پھڑکتی ، خدا تعالیٰ سے محبت کے تقاضوں میں انسانی ہمدردی کا تقاضا داخل ہی نہیں ہے۔گویا معبود کی دنیا الگ ہے اور عبادت کرنے والوں کی دنیا الگ ہے، محبت کا جو رخ ہے آسمان کی طرف ہی ہے اور زمین محبت سے خالی ہوگئی ہے۔ایسی محبت جو محض خدا سے کی جائے اور بنی نوع انسان سے اس محبت میں ہاتھ کھینچ لئے جائیں تو اس محبت کو رفع ہو ہی نہیں سکتا۔لعنتوں اور پھٹکاروں کے ساتھ وہ محبت ان لوگوں