خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 135

خطبات طاہر جلد ۱۲ کیا کرو۔فرماتے ہیں:۔135 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء ”جب ایک چیز کی کثرت ہو جاوے تو پھر اس کی قدر نہیں رہتی۔پانی اور اناج جیسی کوئی چیز نہیں اور یہ سب چیزیں آگ، ہوا ہٹی ، پانی ہمارے لئے نہایت ہی ضروری ہیں مگر کثرت کی وجہ سے انسان ان کی قدر نہیں کرتا لیکن اگر ایک جنگل میں ہو اور کروڑ ہا روپیہ بھی پاس ہو، مگر پانی نہ ہو تو اس وقت کروڑ ہا روپیہ بھی ایک گھونٹ کے بدلے دینے کو تیار ہوتا ہے اور آخر بڑی حسرت سے مرتا ہے۔دنیا کی دولت چیز ہی کیا ہے جس کے لئے انسان مارا مارا پھرتا ہے، ذراسی بیماری آ جاوے پانی کی طرح روپیہ بہایا جاتا ہے مگر سکھ ایک منٹ کے لئے بھی نہیں آتا۔جب یہ حال ہے تو انسان کی یہ کس قدر غفلت ہے کہ اس حقیقی کارساز کی طرف توجہ نہ کرے جس کا بنایا ہوا یہ سب کا رخانہ ہے اور اس کا ذرہ ذرہ جس کے تصرف اور اختیار میں ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۳۴۶ مطبوعہ ربوہ ) اس مضمون کو پڑھ کر یہ بات بھی سمجھ آ جاتی ہے اور بڑی پُر لطف بات ہے کہ مال کثرت سے ہو تو بھی آدمی اُس کی سے بے قدری نہیں کرتا۔مال کو تو بہت ہی زیادہ پیار سے رکھتا ہے۔اور بڑھاتا چلا جاتا ہے اور جو حقیقی نعمتیں ہیں، جب ان کی کثرت ہو جائے تو ان کی بے قدری شروع ہو جاتی ہے یعنی خدا کی دی ہوئی نعمتیں جن کو حاصل کرنے کے لئے دراصل مال عطا ہوتا ہے ان نعمتوں سے تو ایسی بے قدری ہے کہ آنکھیں ہی بند ہیں کچھ نظر ہی نہیں آرہاور نہ آنکھ کے ذریعہ جو دکھائی دیتا ہے وہ سب نعمتیں ہیں۔سانس کے ذریعے جو ہوا جاتی ہے وہ کتنی عظیم الشان نعمت ہے حواس خمسہ خود نعمتوں کے رستے ہیں اور ان رستوں سے انسان جتنی نعمتیں حاصل کرتا ہے سب سے غافل ہو جاتا ہے۔سب سے نظریں پھیر لیتا ہے اور سویا رہتا ہے اور جو نعمت ہے نہیں بلکہ نعمت حاصل کرنے کا ذریعہ تھی اس کو چمٹ جاتا ہے اور اس سے نعمتیں حاصل نہیں کرتا یعنی خدا کی رحمتیں اور خدا کے فضل اور اس دنیا اور آخرت میں خدا کی رضا سے غافل رہتا ہے۔یہ مضمون ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس سے سمجھ آیا اور پھر ساتھ یہ بھی کہ قیامت کے دن ہی یہ نہیں ہوگا بلکہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دکھایا جائے گا۔قیامت کے دن جب فرمایا کہ تم جو کچھ ہے۔پیش کر دو پھر بھی تمہیں کوئی فائدہ