خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد ۱۲ 134 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء یہ جو صورت ہے یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے چندہ دینے والوں کا ساری زندگی کا یہی تجربہ ہے کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل کو بڑھتا ہوا ہی دیکھتے ہیں چندے سے ان کے اموال میں کمی نہیں آیا کرتی۔اللہ تعالیٰ کے دینے کے سوطریق ہیں، ہز ار طریق ہیں ، اتنے زیادہ ہیں کہ گن بھی نہیں سکتے اور آخرت کا حساب جوں کا توں وہیں پڑا ہوا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور وہ حساب اس حساب کے بدلہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔یہ الگ کھاتہ ہے، وہ الگ کھاتہ ہے۔یعنی آپ یہاں روپے داخل کرواتے ہیں ، یہاں بڑھتا ہے اور ساتھ وعدہ یہ ہے کہ آئندہ بڑھے گا۔یہ تو بس ضمنا ہے صرف چکھانے کے لئے یقین دلانے کے لئے کہ ہاں میں بڑھا سکتا ہوں، تو اس خدا سے جب سودے کرنے ہیں تو پھر ڈرنے کا کیا سوال ہے۔خدا کی راہ میں دل کھول کر قربانیاں کیا کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشیں اپنے اوپر برستی دیکھیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس ضمن میں قرآن کریم کی ایک آیت کے مضمون کو جو میرے نزدیک سورۃ الزمر آیت ۴۸ ہے یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور آیت ہوگی پیش نظر رکھ کر بہت ہی پیارے الفاظ میں دنیا کے اموال کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون سے خصوصیت سے تعلق رکھنے والی جو آیت ہے وہ ہے۔وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَ مِثْلَهُ مَعَهُ لَا فَتَدَوا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَبَدَالَهُمْ مِّنَ اللهِ مَالَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (الزمر: ۴۸) کہ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کئے، زمین میں جو کچھ بھی ہے اور اس کے علاوہ اتنا ہی اور بھی وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اگر پیش کر سکتے ہوں اور پیش کر دیں تو کچھ قبول نہیں کیا جائے گا۔وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مَالَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ وہ باتیں جن کا اُن کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہ کچھ ہو جائے گا وہ اب ان کے سامنے ظاہر ہو گئیں یعنی اعمال کا بد نتیجہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اموال کی محبت محض بے وقوفی اور دھوکہ ہے۔اموال کی اصل حقیقت کچھ بھی نہیں ، سوائے اس کے کہ یہ آپ کے لئے کچھ فیض پیدا کر دے۔پس جو انسان مال کے فیض سے محروم رہے اس کے مال کی کوئی حقیقت ہی نہیں تو فیض والے کاموں پر خرچ