خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 130

خطبات طاہر جلد ۱۲ 130 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء پایا جاتا ہے اور سب سے زیادہ پاگل کرنے والی چیز بے انصافی ہے۔اس لئے پنجاب میں ویسے دماغ بہت اچھے ہیں وہ جب دنیا کے علوم میں تتبع کرتے ہیں ، جستجو کرتے ہیں تو بڑی بڑی ترقیاں پا جاتے ہیں۔سیاست کے ایچ بیچ میں بھی خوب جو ہر دکھاتے ہیں لیکن گہری عقل اور تقویٰ کی روشنی عدل کے بغیر نصیب نہیں ہوا کرتی۔وہاں عدل کم ہے اور اسی نے ساری مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔اگر پاکستان کو عدل نصیب ہو جائے تو پاکستانی قوم دنیا کی کسی قوم سے کوئی پیچھے نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ صف اوّل کی قوموں میں غیر معمولی چمکنے والی قوم بن سکتی ہے مگر بہر حال بنگلہ دیش کی جو خاص خوبی مجھے دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں عدل پایا جاتا ہے۔پنجابی کے مقابل پر بہت زیادہ عدل مزاج لوگ ہیں۔پس ساری قوم نے بڑا ہی عمدہ رد عمل دکھایا ہے۔اتنی کھلم کھلا اور اتنی زور کے ساتھ جماعت احمدیہ کی تائید ہوئی ہے اور اکثریت کے راہنما ہونے کے دعویدار علماء کو مجرم گردانا گیا ہے اور کھلم کھلا کہا گیا ہے کہ تم دھو کے باز ہو، تم نے ظلم کیا ہے۔تم نے قرآن کی بے عزتی کی تم نے اسلام کی بے عزتی کی تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔جب بابری مسجد والا واقعہ ہوا ہے تو بعض اخباروں نے بڑے سخت اداریے لکھے ہیں کہ اے ملاں ! تو بابری مسجد کو روتا ہے۔4۔بخشی بازار میں جماعت احمدیہ کی مسجد سے کل تو نے کیا کیا تھا؟ تجھے حق کیا ہے کہ کسی اور مسجد کی بربادی پر کسی قسم کا احتجاج کرے؟ تو ساری قوم نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قیام عدل کا جونمونہ دکھایا ہے اُس سے میرا دل بنگلہ دیش کے لئے بہت راضی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم پر فضل فرمائے گا اور جہاں جماعت پر فضل فرمائے گا بنگالیوں پر بالعموم بھی فضل فرمائے گا۔خدا کرے کہ ان کی سیاست اُن کو عدل پر قائم رہنے دے۔سیاست میں جا کر عقل عموماً پھر جاتی ہے۔اب ساری بنگالی قوم نے ہمدردی کی ہے جرات کے ساتھ جماعت کی تائید کی ہے لیکن حکومت کو اتنی بھی توفیق نہیں ملی کہ پھوٹے لفظوں سے افسوس کا ہی اظہار کر دے۔کوئی معذرت ، کسی قسم کی شرمندگی کا کوئی احساس اگر دلوں میں ہوگا تو کہنے کی جرات پیدا نہیں ہوئی لیکن بنگالی قوم سے کوئی شکوہ نہیں۔بنگلہ دیشیوں نے غیر معمولی شرافت کا نمونہ دکھایا ہے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے۔میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ آپ سب بھی اُن کے لئے دعائیں کریں۔اب میں مالی امور سے متعلق مختصر ایک دو باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں اللہ تعالی کے فضل سے