خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 9
خطبات طاہر جلد ۱۲ 9 خطبہ جمعہ ار جنوری ۱۹۹۳ء سے پہلے تو اہل ربوہ خوشخبری سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔سارے پاکستان میں ”دفتر اطفال‘ میں سب سے زیادہ ربوہ کے بچوں نے حصہ لیا ہے اور کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی خدا کے فضل سے ربوہ کے بچوں نے - 88,538 روپے اس مد میں ادا کئے۔دوسرے نمبر پر لاہور کی باری ہے اور تیسرے نمبر پر کراچی کی لیکن مجھے یہ خیال ہے کہ کراچی زیادہ دیر تک تیسرے نمبر پر نہیں رہے گا وہ یہ سن کر کافی شرمندہ ہوں گے کہ لاہور سے تقریباً تیسرا حصہ پیچھے رہ گئے ہیں یعنی لاہوران سے تین حصے آگے بڑھ گیا ہے اب میں زیادہ اعداد و شمار نہیں بتاتا کیونکہ شرمندہ کرنا مقصود نہیں بلکہ محض مہمیز دینا میرے پیش نظر ہے کہ ذرا ولولے پیدا ہوں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔راولپنڈی چوتھے نمبر پر آیا ہے، گوجرانوالہ پانچویں نمبر پر ،سیالکوٹ چھٹے پر ،سرگودہا ساتویں پر، فیصل آباد آٹھویں پر ، شیخو پورہ نویں پر اور تھر پارکر دسویں نمبر پر۔اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جس کا میں نے ابتداء میں تعارف کرایا تھا اس وقت دنیا کوسب سے زیادہ انسانی قدروں کو بحال کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، انسانی قدریں ہر پہلو سے پامال ہو رہی ہیں، ہر قسم کے جرائم بڑھ رہے ہیں اور ان کے نتیجہ میں انسانی ضمیر کچلا جا رہا ہے اور اکثر جگہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ضمیر دم توڑ چکا ہے کوئی حیا، کسی قسم کی کوئی غیرت، انسانیت کی کوئی رمق بھی بعض جگہ دکھائی نہیں دیتی۔مثلاً جہاں چھوٹے بچوں پر ظلم ہو رہا ہے جہاں بریگار کیمپ اس طرح چلائے جارہے ہیں کہ کسی کے معصوم بچے کو اغوا کر کے اس کو نہایت خطرناک تکلیف دہ مزدوری میں مبتلا کر کے چند پیسے کمانے کی خاطر اتنے بڑے ظلم توڑے جارہے ہیں ،ساری زندگی کے لئے اس بچے کے لئے بھی ایک عذاب کی زندگی ہے اور ماں باپ کے لئے بھی ایک عذاب کی زندگی ہے کسی کو کچھ پتا نہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے کہاں چلے گئے بچے اور وہ بچے خوف و ہراس میں اتنا مبتلا کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک احمدی بچہ اغوا ہونے کے بعد اسی قسم کے ایک کیمپ سے نکل کر بھاگ کر پہنچا تھا اور اس نے جوڑ و دادسنائی وہ تو ایسی ہے کہ سن کر دل یٹھتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور احسان تھا کہ اس کی دعاؤں کے نتیجہ میں اسے توفیق مل گئی ورنہ جو کام وہاں ہوتے ہیں اور کئے جاتے ہیں اور جس قسم کی گراوٹ کی باتیں وہاں ہوتی ہیں اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ کیمپ اسلامی مملکت پاکستان میں بھی جاری ہیں اور