خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۱۲ 121 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء کے غیر معمولی فضلوں کی صورت میں ان پر نازل ہو رہا ہے اور ہر وہ کوشش جو ان کو کمزور بنانے کی کی جا رہی ہے وہ ان کو پہلے سے بہت زیادہ طاقتور بنا کر نکالتی ہے۔یہ تو خدا کا ایک عمومی سلوک ہے جوسب الہی جماعتوں سے ہوا کرتا ہے لیکن جیسے کہتے ہیں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔تو وہ ماشاءاللہ اپنی قربانیوں میں گڑ بہت ڈالتے ہیں اور ویسے بھی ان کو میٹھے کی بہت عادت ہے اس لئے یہ گڑ والا محاورہ ان پر خاص صادق آتا ہے کیونکہ (میٹھا ) تو ان کی خاص کمزوری ہے اور میں جب بھی بنگلہ دیش میں سفر پر جایا کرتا تھا تو مصیبت پڑی ہوتی تھی اتنا میٹھا کھلاتے تھے کہ نا قابل برداشت ہو جا تا تھا اور ان کے لئے یہ عام خاطر تھی اور ہمارے لئے وہ مشکل بن گئی تھی۔مگر قربانیوں کا جہاں تک تعلق ہے ان میں جتنا میٹھا ڈالیں اچھا ہے کیونکہ وہ میٹھا تو منظور ہی منظور ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قربانیوں کو بہت جلد جلد پھل عطا فرماتا ہے۔میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ان آیات میں دیئے گئے سارے وعدوں کا بنگلہ دیش کے اوپر اطلاق ہو جن کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ عام طور پر قرآن کریم میں جہاں قربانیوں کا ذکر ملتا ہے وہاں اس سے ملتی جلتی جزا کا بھی بالعموم ذکر ہے اور بالعموم مضمون مثبت جزا سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن اس آیت میں منفی رنگ میں جزاء کا ذکر ہے مثلاً فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ اليمن ہم تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر نہ دیں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے گی۔قرآن کریم کی بعض آیات میں صرف مثبت وعدوں کا ذکر ہے مثلاً فرمایا اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ کہ خدا نے مومنوں سے ان کی جانوں کا اور ان کے اموال کا سودا کر لیا ہے بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّة کہ اس کے بدلے ان کو جنت عطا ہوگی ، اب ان دونوں آیات کے مضامین اس طرح ملتے جلتے ہیں کہ تجارت کی جو تفصیل بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ تم خدا کی راہ میں مجاہدہ کرو۔اپنے اموال کے ذریعے اور اپنے انفس کے ذریعے۔تبدیلی صرف اتنی ہے کہ وہاں انفس کو پہلے لایا گیا اور اموال کو بعد میں رکھا گیا اور یہاں اموال کو پہلے لایا گیا اور انفس کو بعد میں رکھا گیا۔