خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 112
خطبات طاہر جلد ۱۲ 112 خطبه جمعه ۵/فروری ۱۹۹۳ء جو نے ان کو چند باتیں سمجھائیں کہ اس طریق پر پہلے اپنے آپ کو منظم کرو اپنے ہاتھ درست کرو۔اپنی اقتصادیات کی فکر کرو اپنی تعلیم کا معیار اونچا کرو اور رفتہ رفتہ آزادی لے کر تھوڑا کچھ دم خم اپنے اندر پیدا کرد، غرض یہ کہ اور بہت سی باتیں تھیں جن کا تفصیلی ذکر یہاں مناسب نہیں ان میں سے کچھ ایسے تھے بہت مطمئن ہو کر گئے ، کچھ ایسے تھے جنہوں نے اپنی بے چینی کا کھلم کھلا اظہار کیا کہ دیکھا تمہارے متعلق کہتے تھے نہ کہ تم مغرب کا لگایا ہوا پودا ہو ویسے ہی مشورے دیتے ہو۔میں نے ان کو کہا کہ وقت آئے گا جو آپ کو بتادے گا کہ میں خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہوں۔مغرب کا پودا نہیں ہوں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہیں وہ جب آپ کو عقل کے مشورے دیتے ہیں تو آپ کہہ دیتے ہیں کہ یہ دشمن کے حق میں باتیں کی جارہی ہیں اور جو آپ کو بظاہر حق میں مشورہ دیتے ہیں وہ آپ کو دشمن کے چنگل میں پھنسا دیتے ہیں۔ایسی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں جن سے نجات ممکن نہیں رہتی ، آپ دیکھیں گے وقت بتائے گا کہ ہم امت مسلمہ کے بچے خیر خواہ ہیں اور ہم سے زیادہ ہمدردانہ مشورہ امت مسلمہ کو کوئی نہیں دے سکتا اس کے بعد مجھے بعض یوگوسلاوین ملے ان میں سے بعضوں کے علم میں یہ بات تھی۔بعضوں کے نہیں تھی جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمارے اوپر بڑا احسان کیا ان دنوں میں واقعی جذبات میں بڑا اشتعال تھا اور بڑی کھچڑیاں پک رہی تھیں اگر ہم کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتے تو آج ہم نے بوسنیا کے مسلمانوں کا جو حال دیکھا ہے یہی حال آج ہمارا ہونا تھا بلکہ شاید اس سے بھی بدتر ہوتا، تو اس وقت صبر کی ضرورت ہے اور یہ دونوں صفات مسلمان ممالک کو پہلے اپنے اندر نافذ کرنی چاہئیں جب تک مسلمان ممالک سچائی اور صبر کی طرف نہیں لوٹیں گے اس وقت تک مسلمان ممالک میں کوئی طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔صبر جیسی دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہے صبر کرنے والے کی جو طاقت ہے۔وہ دنیا کے اعتبار سے بھی ایک غیر معمولی طاقت کے جمع کرنے کا فارمولا ہے۔مثلاً ڈیم ہے، جہاں دریاؤں کے پانی بند کر کے بڑی بڑی جھیلیں اور تالاب بنائے جاتے ہیں وہ دراصل اس صبر کا نمونہ ہے پانی بہتا رہتا ہے اگر بہنا روک دیا جائے کہ اس طرح اپنی طاقت کو ضائع نہ کرو، رک جاؤ تو وہ طاقت ضائع نہیں ہوا کرتی وہ جمع ہو رہی ہوتی ہے، وہ بلند تر ہو رہی ہوتی ہے، چڑھ رہی ہوتی ہے۔اس کا معیار بلند ہورہا ہوتا ہے، اس کی طاقت بڑھ رہی ہوتی ہے اور پھر وہ ایک بہت بڑی عظیم الشان طاقت بن کر ابھرتی