خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 111

خطبات طاہر جلد ۱۲ 111 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء لئے بطور خاص نصیحت ہے کہ تم حق پر قائم ہو حق کی طرف لوٹو ورنہ تم بھی گھاٹے پانے والے انسانوں کی طرح اس گھاٹے والے زمانے کا شکار ہو جاؤ گے اور فرمایا صبر سے کام لینا ان مظالم کے وقت حقیقت میں سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں، اگر مسلمان صبر سے کام لیں تو اسے اپنے حالات کا جائزہ لینے کا اور دشمن کے شر سے بچنے کا بھی زیادہ وقت ملے گا۔جب صبر کی تلقین کی جاتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم پر ظلم کر رہا ہے، ظالموں کے حق میں بول رہا ہے لیکن خدا کی نصیحت صبر کی ہے تو اگر صبر کی نصیحت میں نہیں کروں گا تو جھوٹ بولوں گا ، اگر بے چین اور بیتاب ردعمل کی تلقین کروں گا۔تو یہ جھوٹ ہو گا، امر واقعہ یہ ہے کہ اس دور میں مسلمان کو سب سے زیادہ صبر کی تلقین کی ضرورت ہے اور صبر کے نتیجہ میں بہت سے بڑے مظالم جو آگے ان کی راہ تک رہے ہیں، اس راستے پر بہت سی کمین گاہیں ہیں جس راستے پر آج ہم چل رہے ہیں اور بہت سے حملے ہو رہے ہیں، ہو چکے ہیں اور بہت ہونے والے باقی ہیں ان سے نجات کی یہی راہ ہے کہ ہم اس وقت فوراً صبر کی پناہ میں آجائیں، مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یوگوسلاویہ کے البانیہ کے باشندے ان کے کچھ لیڈر میرے پاس مشورہ کے لئے آئے یہ ان دنوں کی بات ہے جب کروشیا کی طرف سے نئی نئی بغاوت ہوئی تھی اور وہ قومیں جن میں البانیہ کے مسلمان بھی ہیں اور بوسنیا کے مسلمان بھی ہیں ان میں یہ خیالات پیدا ہورہے تھے کہ ہم بھی بغاوت کر کے ہم بھی کھلی جنگ کے ذریعہ اپنے سابقہ مظالم کا بدلہ لیں اور اپنی آزادحکومتیں قائم کریں۔تو ایک گروہ جو یورپ سے آنے والے مختلف البانین راہنماؤں پر مشتمل تھا وہ مشورہ کے لئے میرے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھو تم اس وقت تلوار کے ذریعہ یوگوسلاویہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کا تصور بھی نہ کرنا۔میں نے کہا کہ کروشیا میں جو کچھ ہورہا ہے یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اس کے مقابل پر جو تمہارے ساتھ ہو گا، کروشیا پر باوجود اس کے کہ مذہبی اختلاف نہیں تھا پھر بھی بڑے مظالم توڑے گئے اور کروشیا کی اہل مغرب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ مدد بھی کی ہے میں نے کہا کہ تمہاری مدد کو کوئی نہیں آئے گا جو مسلمان تمہیں ہتھیار دیں گے (اگر کوئی دیں گے ) تو وہ ہاتھ کھینچ لیں گے اور جب مغرب نے ہتھیاروں کے داخلے پر قدغن لگائی تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ تمہیں ہتھیار پہنچا سکے اور بالکل برباد کر دئے جاؤ گے۔جس حال میں ہو اس سے ہزاروں گنا بدتر حال ہو جائے گا۔اس لئے سنجیدگی کے ساتھ اگر اپنی فلاح کی باتیں پوچھنا چاہتے ہوتو وہ میں تمہیں سمجھا تا ہوں چنانچہ میں