خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد ۱۲ 106 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء احمد یہ ہوٹل کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ جب ہم گورنمنٹ کالج میں پڑھا کرتے تھے یہ تقسیم ہند سے پہلے کی بات ہے وہاں ایک دفعہ راجہ محمد اسلم صاحب جو بڑے ذہین مشہور تھے اور بہت مخلص تھے اور من مقابلے کے امتحانوں میں گولڈ میڈل لینے والے تھے ان کا ایک صدمہ کی وجہ سے دماغ پھر گیا تھا تو وہ بیچارے اس حالت میں احمد یہ ہوٹل میں آکر قیام پذیر ہوئے جبکہ سر پر یہ جنون سوار تھا کہ میں لوگوں کی شادیاں کرواؤں اور آج بھی کئی احمدیوں کے دماغ میں یہ ہے میں کسی دن اس کا ذکر کروں گا۔ان کو شادیوں کروانے کا شوق تھا کہ جس وجہ سے وہ پاگل ہوئے تھے۔وہ شادی کے سلسلہ میں ہی ایک صدمہ تھا۔بہت ہی قابل انسان ، بہت ہی مخلص اور فدائی اور غیر معمولی ذہین لیکن اس ٹھوکر میں آکر ان کا دماغ چل گیا۔احمد یہ ہوٹل بیٹھے بیٹھے قریباً ہفتہ گزر گیا وہ آئے دن لوگوں کے رشتے جوڑتے تھے کسی لڑکے کو پکڑ لیا کہ آؤ میں نے تمہارے لئے فلاں رشتہ ڈھونڈا ہے اور کسی دوسرے کو پکڑا کہ تمہارے لئے فلاں رشتہ ڈھونڈا ہے، کسی کو دوسری شادی کسی کو تیسری شادی کی تلقین ،سپر نٹنڈنٹ صاحب بہت شریف انسان تھے۔بڑے نرم دل اور تحمل سے بات کرنے والے لیکن آخر وہ تنگ آگئے۔انہوں نے ایک دفعہ صبح کی نماز کے بعد راجہ صاحب کو مخاطب کر کے بڑے ادب سے فرمایا کہ دیکھیں راجہ صاحب میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں بڑی عزت ہے لیکن قانون قانون ہی ہے۔اب دیکھیں جماعت کا قانون ہے کہ کوئی غیر طالب علم جو اس ہوٹل کا باشندہ نہیں ہے وہ یہاں نہیں رہ سکتا اور آپ کو سات دن ہو گئے ہیں تو میں بڑے ادب سے آپ سے بات کر رہا ہوں کہ مہربانی فرما کر یہ جگہ چھوڑ دیں انہوں نے فوراً پلٹ کر اُن سے کہا کہ سپر نٹنڈنٹ صاحب یہ آپ حکم دے رہے ہیں یا درخواست کر رہے ہیں کیونکہ ان کی دیوانگی کا ایک رعب تھا اور سپر نٹنڈنٹ صاحب ویسے ہی ذرا شریف النفس اور نرم دل کے آدمی تھے انہوں نے گھبرا کر کہا کہ راجہ صاحب میں درخواست کر رہا ہوں ، عرض کر رہا ہوں فوراً راجہ صاحب نے کہا: چل اوے ٹیکیا نا منظور ٹھیکیا“ پنجابی محاورہ ہے مجھے تو ابھی تک اس کا مطلب سمجھ نہیں آیا لیکن کوئی تحقیر کا ایک لفظ ہے کہ چل اوے ٹیکیا نامنظور که اگر درخواست ہے تو یہ نامنظور ہے۔تو اسرائیل کے سلسلہ میں وہ تکلمات تھے اب وہ درخواست بن گئے ہیں۔جب اسرائیل نے اسی دیوانگی کے عالم میں جو تکبر اور رعونت سے پیدا ہوتی ہے مڑ کر کہا کہ بتاؤ یہ کیا ریزولیوشن منظور ہونے والا ہے حکم دینے لگے ہو یا درخواست کرنے لگے ہو تو انگلستان جس نے