خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1010 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1010

خطبات طاہر جلد ۱۲ 1010 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء سکھانے کا کام بہت ہی مشکل تھا اور سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے کریں گے اور اب تک خدا کے فضل سے پندرہ ہزار سے زائد واقف نو بچے جماعت کو عطا ہو چکے ہیں۔جب یہ پروگرام بنا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک ایسا منصوبہ ڈال دیا جس کے ذریعے ہم دنیا کی بڑی زبانیں ، اہلِ زبان کی زبان میں تمام دنیا کے احمدی بچوں کو اور بڑوں کو بھی ٹیلی ویژن کے ذریعے سکھا رہے ہوں گے اور روزانہ یہ پروگرام جاری ہوں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔اس سلسلہ میں جو دلچسپ بات ہے وہ یہ ہے کہ ٹیلی ویژن کا جو پروگرام دکھایا جا رہا ہوگا وہ بغیر کسی ایک زبان کے ہوگا اور اس کے ساتھ مختلف چینل میں مختلف زبانیں سکھائی جارہی ہوں گی۔فی الحال وسیع تر ٹیلی ویژن کا جو انتظام ہے یعنی بارہ گھنٹے روزانہ والا اس میں ہمیں صرف دو چینل ملے ہیں یعنی بیک وقت دوز با نہیں اس پر دکھائی جاسکیں گی جبکہ یورپ کے ساڑھے تین گھنٹے ٹیلی ویژن پر ہم بیک وقت آٹھ زبا نہیں سکھا سکیں گے۔لطف کی ا یہ ہے کہ کسی زبان کو سکھانے کے لئے کسی اور زبان کی ضرورت نہیں ہو گی۔اگر کر یول( Creole) سکھانی ہے تو نہ وہ اردو میں سکھائی جائے گی نہ جرمن میں ، نہ انگریزی میں ، نہ فرنچ میں نہ کسی اور زبان میں سکھائی جائے گی کریول (Creole) کوکر یول (Creole) میں ہی سکھایا جائے گا اور اس طرح بچے تعلیم پاتے ہیں ، بچوں کے لئے کونسا آپ کوئی دوسری زبان کا سہارا ڈھونڈتے ہیں کہ بچے کو پہلے اردو میں انگریزی سکھائی جائے یا انگریزی میں اردو پڑھائی جائے۔ماں باپ کی زبان بچے ان سے سیکھتے ہیں اور بغیر کسی دوسری زبان کے سہارے سے سیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اہلِ زبان بنتے ہیں۔جب دوسری زبانوں کا سہارا نہ لیا جائے تو لفظ مضمونوں میں ڈھلتے ڈھلتے دماغ پر اتنا گہرا نقش ہو جاتے ہیں کہ اس مضمون کا کوئی بھی سایہ دکھائی دے تو وہ لفظ از خود ذہن میں ابھرتا ہے۔ایک لفظ کے معنی کے جتنے بھی امکان ہیں وہ معنی کے سائے سمجھ لیں تو ایک لفظ میں جتنے بھی معانی کے سائے پائے جاتے ہیں وہ بچہ جس نے بغیر کسی مدد کے زبان سیکھی ہو لفظ کے ہر شیڈ کو ہر سائے کو براہِ راست سیکھا ہو تو جہاں بھی وہ اس سائے کو دیکھتا ہے سایہ سامنے آتے ہی وہ لفظ از خود اس کے ذہن میں ابھرتا ہے، یہ جو کیفیت ہے اس کو اہلِ زبان ہونا کہتے ہیں۔ہماری زبان کا ماحول اس سے ذہن میں جذب ہو جاتا ہے اور کسی اور زبان کی مدد سے ذہن میں ترجمہ نہیں کرنا پڑتا ورنہ میں جب آپ سے فرنچ یا کریول زبان میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں تو میں پہلے انگریزی سے فریج میں ترجمہ