خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1009
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1009 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء والوں تک پہنچا نا بہت بڑا کام تھا اور عام طور پر ہر زبان کا ایک بھاری طبقہ ایسا ہے کہ جو خواہش کے باوجود ہر چیز کو حاصل نہیں کر سکتا نہ ان کو ہمارا پتا نہ ہی ہمیں ان کا پتا۔جن کو خواہش ہے ان کے پاس پیسے نہیں اور پھر بڑی تعداد میں ایسی تو میں بھی ہیں جن کی زبان میں ترجمے تو ہو چکے ہیں مگر ان کو پڑھنا ہی نہیں آتا ، مثلاً یوروبا ہے جو نائیجیریا کے شمال میں بولی جاتی ہے اس میں اگر تر جمہ ہے تو اکثر لوگ پڑھ ہی نہیں سکتے۔اسی طرح افریقہ کی دوسری اور بہت سی زبانیں ہیں جن کو پڑھنے والے موجود نہیں ہیں اور ہم ترجمہ کر چکے ہیں۔اب ہم جماعت کے ذریعے غیروں کو بھی ان کی اپنی زبان میں قرآنِ کریم کی تعلیم روزانہ دیا کریں گے اور اچھی تلاوت کے ساتھ جب قاری پڑھے گا تو لوگ اس کی نقل بھی اتار سکتے ہیں۔وہ تلاوتیں پیش کی جائیں گی جن میں قاری ٹھہر ٹھہر کر پڑھے گا آرام سے سہولت کے ساتھ کسی جلدی کے بغیر۔پھر اس کا ترجمہ سمجھا سمجھا کر پڑھا جائے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کے مطالب اور معانی تمام دنیا کے لئے عام کر دیئے جائیں گے اور حضرت امام مہدی کے آنے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ وہ خزانے لٹائے گا، غیر احمدی علماء تو دنیا کے خزانوں کی انتظار لے کے بیٹھے ہیں کہ امام مہدی آئے تو دنیا کے خزانے لٹائے ان کو کیا علم کے دنیا کا سب سے بڑا خزانہ تو قرآن کریم کا خزانہ ہے جو آسمان سے اترا ہے ایسا خزانہ تو دنیا میں بھی نازل نہیں ہوا تھا اور یہی وہ خزانہ تھا جس کو بانٹنے کے لئے امام مہدی نے تشریف لا نا تھا اور آج امام مہدی کے غلاموں کو یہ توفیق مل رہی ہے کہ انشاء اللہ یہ خزانہ اب گھر گھر بانٹا جائے گا۔دوسرا اہم پروگرام زبانیں سکھانے کا ہے۔جب وقف نو کی تحریک کی گئی تو اس وقت سے میرے دل میں یہ خلش تھی کہ ہم ہزاروں بچوں کو قبول تو کر بیٹھے ہیں ان کی تربیت کیسے کریں گے، ان کو زبانیں کیسے سکھائیں گے، ان کی روز مرہ کی ابتدائی تربیت ان کی اپنی زبانوں میں کیسے کریں گے۔ہمارے پاس تو اتنے معلم نہیں ہیں کہ جہاں جہاں بچے ہیں وہاں معلم پہنچا دئے جائیں۔ہمارے پاس اتنے زبان دان نہیں ہیں کہ جہاں جہاں زبان کے خواہشمند ہیں ان کو اہلِ زبان سے ان کی اپنی زبان سکھائی جائے۔اگر اربوں روپیہ بھی ہم خرچ کرتے تو یہ ناممکن تھا۔جامعہ احمد یہ ربوہ میں ہی پورے استاد مہیا نہیں کہ جو عرب ہوں اور عربی کی تعلیم دے رہے ہوں ، انگریز ہوں جو انگریزی کی تعلیم دے رہے ہوں ، فرانسیسی ہوں جو فرانسیسی کی تعلیم دے رہے ہوں ، غرضیکہ زبانیں