خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1004 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1004

خطبات طاہر جلد ۱۲ 1004 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء نمبر فیصل آباد چو تھے اور سیالکوٹ پانچویں نمبر پر ہے، اسلام آباد چھٹے نمبر پر ہے، گوجرانوالہ نمبر سات، راولپنڈی نمبر آٹھ پر ہے۔گجرات نمبر نو اور شیخو پورہ دسویں نمبر پر ہے۔جہاں تک دفتر اطفال یعنی محض بچوں سے چندہ اکٹھا کرنے کا تعلق ہے اس میں بھی کراچی تمام پاکستان کی جماعتوں میں سبقت لے گیا ہے اور ربوہ کی بجائے لاہور دوسرے نمبر پر آیا ہے اور تھوڑے سے فرق کے ساتھ ربوہ ، پھر فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سیالکوٹ ،شیخو پورہ ، سرگودھا اور پھر کوئٹہ کی باری ہے۔ی مختصر کوائف میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔تمام دنیا کی جماعتیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں لیکن دعا میں صرف اپنے آپ کو یاد نہ رکھیں بلکہ سب دنیا کی جماعتوں کو یاد رکھیں۔خصوصیت سے وہ جماعتیں جو غیر معمولی قربانی کر کے آگے بڑھ رہی ہیں ان کے لئے جزاء کی دعا کرنی چاہئے اور جو پیچھے رہنے والی ہیں ان کے لئے آگے بڑھنے کی دعا کرنی چاہئے۔ہماری دعاؤں میں اجتماعیت ہونی چاہئے اور یہ نہ ہو کہ ہر جماعت صرف اپنے لئے دعا کرے پس میں تمام دنیا کی جماعتوں کو تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں اور خصوصیت سے جو محنت کرنے والے کارکنان میں ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں تا کہ ہمارا آئندہ سال پہلے سے بہت بڑھ کر با برکت ثابت ہو۔اس ضمن میں یہ ایک عجیب اتفاق ہے یا اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ ماریشس کی سرزمین سے میں نے وقف جدید کے اگلے سال کا اعلان کرنا تھا اور ماریشس کے ہی ایک مخلص نوجوان جو واقف زندگی ہیں یعنی عبد الغنی جہانگیر ان کو اللہ تعالیٰ نے رویاء میں وقف جدید کے متعلق ہی کچھ دکھایا اور تقریباً مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے انہوں نے بڑے تعجب سے مجھے یہ رویا لکھا جو بہت معنی خیز ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رویاء دیکھا جس کا دل پر گہرا اثر ہے لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ کیا مطلب ہے ؟ میں نے دیکھا کہ جماعت احمد یہ ایک میز کی طرح ہے جس کی ٹانگیں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن وقف جدید کی اور تحریک جدید کی دو ٹانگیں باقی ٹانگوں سے زیادہ تیز بڑھ رہی ہیں۔یہاں تک کہ دیکھتے دیکھتے وقف جدید کی ٹانگ بہت ہی زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھنی شروع ہوگئی تحریک جدید کی ٹانگ نے پوری کوشش کی کہ ساتھ مقابلہ کرے لیکن نہ کر سکی تو اچانک میں نے دیکھا کہ تحریک جدید کی ٹانگ میں بولنے کی طاقت پیدا ہوئی اور اس نے کہا بس بس ! اب میں اس سے زیادہ برداشت نہیں کر