خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1003
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1003 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء دی گئی ہیں وہ کارکنوں کی کمزوری یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے ہیں۔یہی غانا جو خدا تعالیٰ کے فضل سے لمبی چھلانگیں مار کر آگے نکلا ہے ایک زمانے میں بہت پیچھے تھا اب انتظامیہ میں ایک بیداری بھی پیدا ہورہی ہے۔ایک نیا ولولہ پیدا ہورہا ہے۔تجربہ بڑھ رہا ہے۔تبلیغ کے میدان میں بھی غانا اب بڑے زور سے آگے بڑھ رہا ہے اور چندوں کے میدان میں بھی اب خدا کے فضل سے بیداری کے آثار نمایاں ہیں۔اس لئے تمام دنیا کے امراء کو اپنی انتظامیہ کے معیار پر نگاہ رکھنی چاہئے اور جہاں کہیں کمزوری دیکھیں تو یقین کریں کہ جماعت کے اخلاص کی کمزوری نہیں یہ انتظامیہ کی کمزوری اور نا تجربہ کاری ہے۔اس پہلو سے امیر اگر اپنے ہر شعبے پر نظر رکھے اور سال کے آغاز ہی سے کمزور شعبوں کو خاص توجہ دے کر آگے بڑھانے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ سال کے آخر تک یہ ساری کمزوریاں دور نہ ہو جائیں۔دنیا کے ہر ملک کے متعلق میرا تجربہ یہی ہے کہ جہاں انتظامیہ کو بہتر بنایا گیا وہاں اللہ کے فضل سے جماعت نے ضرور ساتھ دیا ہے۔کبھی شکوہ نہیں ہوا کہ جماعت کمزور ہے ، ہمت ہار بیٹھی ہے، اخلاص کے ساتھ جواب نہیں دیتی کیونکہ اس جماعت کی گھٹی میں لبیک اللھم لبیک لکھ دیا گیا ہے۔یہ اللہ کی تقدیر ہے جو جاری ہو چکی ہے۔اس لئے جماعت کے اخلاص کے بارے میں میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی کبھی کوئی شکوہ پیدا نہیں ہو گا منتظمین کو بیدار رہنا چاہئے اور توجہ کرنی چاہئے۔امریکہ نے جو غیر معمولی طور پر وقف جدید میں کامیابی حاصل کی ہے اس کا سہرا بھی ایک حد تک وہاں کے نیشنل سیکرٹری وقف جدید انور محمود خان صاحب کے سر پر ہے اور امیر صاحب USA نے خاص طور پر ان کی محنت کی تفصیل بھیجی ہے تا کہ ان کو دعا میں یاد رکھا جائے۔اسی طرح باقی سب دنیا میں جو خلصین خدمت دین پر مامور ہیں ان کو آپ سب اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔وصولی کی اجتماعی حیثیت کے لحاظ سے یعنی وقف جدید کے تمام شعبوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے (باہر کی دنیا میں تو زیادہ چندے نہیں ہیں لیکن پاکستان میں وقف جدید کے اور بھی شعبے ہیں مثلاً بالغان کا چندہ ہے ، اطفال کا چندہ ہے۔اس کے علاوہ وہ مراکز جہاں وقف جدید کے معلم بھیجے جاتے ہیں۔ان کا ایک الگ چندہ ہوتا ہے پھر تھر پارکر کی تحریک کے لئے الگ چندہ ہے تو ان سب چندوں کو عمومی طور پر ملحوظ رکھتے ہوئے ) پاکستان کی جماعتوں کا مقابلہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کراچی سارے پاکستان کی جماعتوں میں اول نمبر پر ہے، ربوہ دوسرے نمبر پر ہے لاہور تیسرے