خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1002
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1002 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء۔گئے ہیں۔جاپان کا فی کس وعدہ 47 پونڈ ہے۔بیلجیئم ایک چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجودخدا کے فضل سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے جماعت میں تبلیغ کے لحاظ سے بھی غیر معمولی جوش ہے ان کی وصولی فی کس کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اور امریکہ بہت معمولی فرق کے ساتھ چوتھے نمبر پر اورنمبر پانچ پر جرمنی ہے۔اگر دسویں نمبر پر ماریشس ہوتا تو میں پوری لسٹ پھر پڑھ جاتا تا کہ آپ کا نام پھر سامنے آجائے لیکن ایک اور لسٹ ہے۔جس کے لحاظ سے آپ کا نام سامنے آنیوالا ہے، ماشاء اللہ۔ایک پہلو سے افریقہ کا ایک ملک غانا سب دنیا سے آگے نکل گیا ہے اور وہ پہلو چندہ دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا ہے۔یعنی وقف جدید میں جتنے پہلے چندہ دینے والے تھے ، ان میں کتنا مزید اضافہ ہوا ہے اس لحاظ سے سب سے زیادہ اضافہ کرنے والا غانا ہے ان کی تعداد 1992ء میں صرف 2520 تھی اور اب ماشاء اللہ 9970ہوگئی ہے۔جماعت غانا بھی ہر پہلو سے بیدار ہورہی ہے اور ماشاء اللہ نمبر دو پر گیمبیا ہے جہاں پر ابھی بہت زیادہ کام کی گنجائش ہے نمبر تین پر فلسطین ہے جنہوں نے سو فیصد سے بھی زائد چندہ دہندگان کی تعداد بڑھائی ، پھر انڈونیشیا ہے پھر جسم اور چھٹے نمبر پر ماریشس کی باری ہے جہاں 843 وعدہ دہندگان کی تعداد خدا کے فضل سے بڑھ کر 1142 ہو چکی ہے اور جس طرح میں نے یہاں جماعت کو مخلص پایا ہے اور ہر فردِ بشر سے ملاقات کر کے میں نے یہاں اندازہ لگایا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ معمولی سی توجہ کرنے سے آئندہ سال تعداد کے لحاظ سے بھی یہاں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ساتویں نمبر پر سوئٹزر لینڈ ہے۔مختلف جماعتوں کے آگے بڑھنے میں منتظمین کی محنت ، خلوص اور دعاؤں کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔وہ جماعتیں جو محض صفر کے قریب ہوتی ہیں جب ان کی انتظامیہ میں تبدیلی پیدا کی جائے ، مخلص فدائی کارکن آگے آئیں تو غیر معمولی طور پر وہاں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور صفر کے قریب ہونے کی بجائے وہ سو کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔یہ عمومی طور پر سب دنیا میں ہمارا تجربہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جماعت احمدیہ کا اخلاص عالمی طور پر تقریباً یکساں ہی ہے۔تمام دنیا کے احمدی قربانی اور فدائیت کے جذبے اور اخلاص میں ایک لحاظ سے برابر کی چوٹ ہیں لیکن انتظامیہ کمزور ہو جاتی ہے، بعض جگہ انتظام کا تجربہ نہیں ہوتا۔نئے نئے ممالک ہیں ان کو سلیقہ نہیں کہ کس طرح کام کرنا ہے، کس طرح دل بڑھانا ہے اور ہر فرد بشر تک پہنچنا ہے۔جتنی بھی خامیاں دکھائی