خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 957 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 957

اشاریہ خطبات طاہر جلد 11 22 فمن تطوع خيرًا میں نفلی روزوں کا بھی ذکر ہے 161 | تفسیر کبیر آنحضرت کے اسوہ کی روشنی میں قوام کی حقیقت 259 خاتم کا مطلب 143,145 سورۃ الاحزاب میں عظیم الشان روحانی ولادت کی خوشخبری 146 تقدیر لیل اور لیلۃ میں فرق نہار اور یوم میں فرق قرآن کریم میں لفظ یوم کا استعمال 217 217 217 72 تقدس ظاہری مقامات کا تقدس 882 تدبیر اور تقدیر کا تعلق بندے کی وہ تدبیر جو اللہ کی تقدیر بن جائے 106,109 110 مومن خدا کی تقدیر سے خدا کی تقدیر کی طرف بھاگتا ہے 648 سورۃ الدخان میں لیلۃ القدر کی آیات رکھنے میں حکمت 221 طاعون کے وقت حضرت عمر کا اسلامی لشکر کو جگہ تبدیل 221 کرنے کا حکم اور تقدیر خیر کی طرف بھاگنے کا علم 648,649 سورۃ الدخان میں آنحضرت کی بعثت ثانیہ کا ذکر سورۃ العصر میں خوشخبری کہ قیامت تک کوئی ایسا دور تقدیر الہی نہیں آئے گا جس میں کچھ مومن اور صالحین نہ ہوں 222 تقوی سورۃ الرحمن میں خدا کی توحید کا بیان 231,232 سورۃ ھود کے مضامین جن کی وجہ سے آنحضرت کے بال سفید ہو گئے ذکری کے مختلف معانی 271 284,285,326,327 تقویٰ کے متعلق منصوبہ بندی کی ضرورت خدا کے نزدیک متقی کی تعریف دعوت الی اللہ اور تقویٰ 206 127 127 128,131,132,188 زُلفی اور زُلفا میں فرق اور قرآنی استعمال 288,289 قرآن کے آغاز میں ان متقیوں کا ذکر جو اعلیٰ درجہ کے حفاظ عظیم سے مراد 349 تربیت یافتہ ہیں سورۃ النجم کے آغاز میں ثریا ستارے کے زمین کی طرف تقوی آنحضرت کی طرف بڑھنے کا نام ہے 409,413 128 130 زندگی کے ہر دائرے پر حاوی ایک عظیم الشان مضمون 188 جھکنے کی پیشگوئی دنا فتدلی کا عام مضمون اور حضرت مسیح موعود کا ایک نیا تقویٰ کا مطلب مضمون بیان فرمانا 416,417 تقویٰ کے انداز محمد سے سیکھنے ہوں گے سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات کا نزول گرمیوں میں ہوا 424 نیکی اور تقویٰ کا اصل راز یہ ہے کہ دل میں بدی کو داخل المزمل کی عام تشریح اور اس میں ایک مستقل مضمون 425 ہی نہ ہونے دو وسیلہ کے معانی 475 حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنا اور بل فعلہ کی جماعتی تفسیر تزکیہ سے مراد یختانون انفسھم کے دومعانی رجال سے مراد تفسیر قرطبی 595,596 633 703 905 72 غیر مسلم مسلم اور تقویٰ 255 584 823 830 دینی معاملات میں نبی سب سے زیادہ متقی ہوتا ہے 842 تلوار تلوارتب اٹھتی ہے جب دشمن دلائل کی دنیا میں کلیہ نامراد ہو چکا ہو 125