خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 972
اشاریہ خطبات طاہر جلد 11 بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے 238 شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا 334 ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اے میرے مولی اس طرف دریا کی دھار اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی 335 تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چراں احسان کردی 362 421 آنکھ اس کی دور میں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے 493 پردے جو تھے ہٹائے اندر کی راہ دکھائے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے ـاء ارفون به رأه اشي لکھنو آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی ہوش سیر و تماشہ سو وہ کم ہے ہم کو نا ان عدتنا لوجدتنا الضيوف وانت رب المنزل نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تب ہے گرتوں کو تھام لے ساقی غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے فلسفیو! زور دعا دیکھو تو اے مرے ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے نه خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم 493 456 495 512 534 579 584 638 37 ہے آدمی بجائے خود ایک محشر خیال ہم انجمن سیکھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو جب چمن سے گزرے تو اے صبایہ کہنا بلبل زار سے کہ خزاں کے دن بھی قریب ہیں نہ لگانا دل کو بہار سے یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لئے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے رخصت نامہ مجھے دے کہ مبادا ظالم تیرے چہرے سے ہوئی ہر غم پنہاں میرا مجھے فکر جہاں کیوں جہاں ہو تیرا ہے یا میرا رات محفل میں تیرے حسن کے شعلے کے حضور 668 670 672 795 836 839 شمع کے منہ پر جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا 899 سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے جان دی دی ہوئی اسی کی تھی 900 912 913 حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا بلانے والا ہے سے پیارا شفاعت آنحضرت بطور وسیلہ اور شفیع شفاعت کا وہ مفہوم جو عوام میں پایا جاتا ہے 475,476 476 حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں شفاعت کے مقام کی تشریح و تفسیر شفیع میں دو قسم کے تعلق کا ہونا ضروری ہے ہر نبی اپنی اپنی قوم کے لئے شفیع مگر آنحضرت سب سے بلند مقام پر ہیں 476 481 482,483