خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 972
668 670 672 ہے آدمی بجائے خود ایک محشر خیال ہم انجمن سیکھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو جب چمن سے گزرے تو اے صبا یہ کہنا بلبل زار سے کہ خزاں کے دن بھی قریب ہیں نہ لگانا دل کو بہار سے یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لئے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے 795 رخصت نامہ مجھے دے کہ مبادا ظالم تیرے چہرے سے سے ہونی ہر غم پنہاں میرا 836 مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا 839 ہے یا میرا رات محفل میں تیرے حسن کے شعلے کے حضور شمع کے منہ پر جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا 899 سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے 900 جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا بلانے والا ہے سب 912 913 سے پیارا شفاعت آنحضرت بطور وسیلہ اور شفیع شفاعت کا وہ مفہوم جو عوام میں پایا جاتا ہے 475,476 476 حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں شفاعت کے مقام کی تشریح و تفسیر شفیع میں دوقسم کے تعلق کا ہونا ضروری ہے 476 481 ہر نبی اپنی اپنی قوم کے لئے شفیع مگر آنحضرت سب سے بلند مقام پر ہیں 482,483 37 238 334 335 362 421 493 493 456 495 512 534 579 584 638 اشاریہ خطبات طاہر جلد 11 بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اے میرے مولی اس طرف دریا کی دھار اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی تا نه دیوانه شدم هوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چراں احسان کردی آنکھ اس کی دور میں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے پردے جو تھے ہٹائے اندر کی راہ دکھائے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے العاقلون بعالمين يرونه والعارفون به رأه اشياء لکھنو آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی ہوش سیر و تماشہ سو وہ کم ہے ہم کو يا ضيفنا ان عدتنا لوجدتنا نحن الضيوف وانت رب المنزل نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تب ہے گرتوں کو تھام لے ساقی غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے مرے فلسفیو! زور دعا دیکھو تو این چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے نہ وصال صنم نہ خدا ہی ملا