خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 89

خطبات طاہر جلدا 89 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء بظاہر دور دکھائی دیتی ہے۔وہ قریب لائی جائے گی اور وہ نصرت جس کے وعدے تم سے کئے گئے تھے تم اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو دیکھ لو گے۔جو آیات قرآنیہ میں نے تلاوت کی ہیں یعنی جو سورۃ الصف سے اخذ کی ہیں ان کا اب میں ترجمہ کرتا ہوں اس سے آپ کو کھلا کھلا وہ پیغا مل جائے گا جو آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کی آنے والی جماعت کی صفات کے طور پر کھول کر دیا۔یہ کہنا کہ اس کا تعلق صرف مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے ہے درست نہیں اس لئے پیشتر اس سے کہ میں ان آیات کا ترجمہ کروں اس مضمون کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔الله سب سے اول اور سب سے آخر حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ اور آپ کے ساتھی ہیں۔تمام پیشگوئیاں جن میں احمد کی پیشگوئی بھی شامل ہے اول طور پر حضرت اقدس محمد مصطف مع ہے کے متعلق ہی ہیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اور آپ کی صفات کا ذکر ہے تو ان معنوں میں نہیں کہ صرف آپ کے لئے یہ مخصوص تھیں اور کسی اور کے لئے نہیں بلکہ ان معنوں میں کہ یہ تمام پیشگوئیاں حضرت محمد مصطف عمل ہے اور آپ کے غلاموں کے لئے ہیں اور جو صفات حسنہ بیان ہوئیں وہ بھی آپ کے غلاموں پر صادق آتی ہیں لیکن آخرین کے پل کے ذریعہ، آخرین کے رابطے کے ذریعہ جسے سورۃ جمعہ نے ہمارے سامنے رکھا آپ کو اولین سے ملایا گیا ہے اور ملانے کے معانی یہ تو بہر حال نہیں لئے جاسکتے کہ ایک وقت میں یا ایک جگہ پر اکٹھے ہو جائیں گے۔نہ ہم جگہ کے لحاظ سے ، نہ ہم وقت کے لحاظ سے ان اولین میں شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بار ہا فرمایا گیا۔پس ملنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ صفات کے ذریعے ملنے کی صورت ہے، اخلاق کے ذریعے ملنے کی صورت ہے، کردار کے ذریعے ملنے کی صورت ہے اور لگن کے ذریعے ملنے کی صورت ہے۔پس یہی وہ مضمون ہے جو سورہ صف میں اس رنگ میں بیان فرمایا گیا کہ اولین پر تو ضر ور صادق آیا لیکن آخرین پر بھی صادق آئے گا اور لازم تھا کہ صادق آتا کیونکہ اس کے بغیر آخرین کو اولین سے ملایا جا ناممکن نہیں پس اس وضاحت کے ساتھ اب آپ اس ترجمہ کو پیش نظر رکھیں جو میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيْمِ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو کیا میں تمہیں ایک تجارت کی اطلاع نہ دوں۔ایک تجارت کی