خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 922 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 922

خطبات طاہر جلدا 922 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء انگیز ہے ورنہ اتنے لمبے عرصے کے بعد عموماً تحریکوں کے قدم آگے بڑھنے کی رفتار کے لحاظ سے یا موازنے کی رفتار کے لحاظ سے مدھم پڑ جایا کرتے ہیں لیکن جب آپ وصولی کی بات سنیں گے تو مزید حیران رہ جائیں گے۔۱۹۹۱ء میں وعدہ ۶ ۱۹۱۰۷ تھا اور وصولی ۶۹۵ ۲۲۰ پاؤنڈ تھی جبکہ ۱۹۹۲ء میں وعده ۲٫۵۷٫۲۵۹ پاؤنڈ ز تھا اور یہ وہم سا ہوتا تھا کہ اتنے بڑے اضافے کی وجہ سے شاید پوری وصولی نہ ہو سکے لیکن وصولی اس کے مقابل پر ۳۳۲۶۸۸ پاؤنڈز ہے۔تو آپ دیکھیں کہ وقف جدید کی تحریک اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔کروڑوں میں داخل ہوگئی ہے یعنی اس کو پاکستانی روپوؤں میں تبدیل کر کے دیکھیں تو چند ہزار سے جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کو خدا نے اس نئی صدی میں کروڑوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ سلسلہ جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اس سے امید ہے کہ انشاء اللہ اس کے بہت ہی عظیم الشان نتائج ظاہر ہوں گے۔پاکستان اور بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علاوہ بیرونی دنیا میں کام کے لحاظ سے دراصل وقف جدید کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی چندے کے لحاظ سے ضرورت تھی کیونکہ وقف جدید کا زیادہ تر کام پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں ایک نہج پر چل پڑا ہے اس لئے میں نے یہ تحریک کی کہ باہر کے ممالک چندے میں شامل ہوں تا کہ ان کاموں کو آگے بڑھایا جائے لیکن افریقہ کے لئے یہ استثناء رکھا گیا ہے کہ افریقہ کا وقف جدید کا چندہ و ہیں خرچ ہوگا کیونکہ افریقہ کے متعلق پالیسی یہی ہے کہ اس غریب خطہ ارض کو دنیا کی امیر قوموں نے بہت لوٹا ہے ان کا خون چوسا گیا ہے اور اب تو اکثر ممالک خوفناک اینیمیا (Anaemia) خون کی کمی کا شکار ہو چکے ہیں اس لئے میں نے چند سال پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ جماعت احمد یہ اس رخ کو پلٹائے گی یعنی آئندہ کبھی افریقہ کا پیسہ باہر نہیں جائے گا بلکہ باہر سے پیسہ افریقہ بھیجا جائے گا۔چندوں کے سلسلہ میں بھی یہی پالیسی ہے اور اسی لئے وقف جدید افریقہ کی جو بھی رقم ہے وہ افریقہ پر ہی خرچ ہوتی ہے بلکہ باہر کی بھی انشاء اللہ افریقہ پر خرچ کی جائے گی۔پاکستان بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علاوہ جو درمیانی حصہ ہے اس میں زیادہ تر یورپین اور مغربی ممالک ہیں اور پھر انڈونیشیا اور جاپان وغیرہ بھی ہیں جن کے چندے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اب خاص طور پر ہندوستان میں اور پھر بعض دوسری جگہوں پر بھی کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔