خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 902
خطبات طاہر جلداا 902 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء پس آپ بھی وہ درخت بن سکتے ہیں ہر سیکرٹری وہ درخت بن سکتا ہے جو بار آور ثابت ہو جسے شیریں دائمی پھل لگیں ۔ ایک فرد کو تو تھوڑے پھل لگ سکتے ہیں کیونکہ اس کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے لیکن جب ایک عہدہ دار فعال ہو جائے ایک ثمر دار درخت کی شکل اختیار کر جائے تو پھر اس کی کوششوں سے ساری جماعت کو جو پھل لگتے ہیں وہ اس کے پھل بن جاتے ہیں ۔ یہ ایسا درخت ہوتا ہے جس کے سائے تلے ساری جماعت آجاتی ہے اس کی شاخیں دور دور تک جماعت میں پھیل جاتی ہیں اور جماعت کا فیض پہنچاتی ہیں اسی لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی مثال ایک ایسے درخت کی سی دی ہے جس کی شاخیں پوری دنیا میں دور دور تک پھیلتی گئیں اور ان شاخوں کے سائے تلے لوگ آرام کریں گے اور اس کی ٹہنیوں پر پرندے بیٹھیں گے، اس کے پھل سے لوگ فائدہ اُٹھائیں گے تو سیکرٹریوں کو اس ذمہ داری کے ساتھ اپنے منصب کو سمجھنا چاہئے اور یہ سوچتے ہوئے کام کرنا چاہئے کہ جوابدہ تو وہ بہر حال ہوں گے امیر نے جواب طلبی نہ کی تو خدا تعالیٰ جواب طلبی کرے گا اور ایک اور مشکل یہ ہے کہ جواب طلبی کے خوف سے بھاگنے کی بھی جگہ کوئی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اپنی خدمت سے بھاگنے والوں کو نا پسند کرتا ہے۔ خود عہدے کی تلاش میں ، عہدے کی طلب میں آگے بڑھ کر ہاتھ پھیلا کر عہدہ لینا یہ نہایت مگر وہ حرکت ہے لیکن یہ بھی مگر وہ حرکت ہے کہ کام کے بوجھ سے ڈر کر انسان پیچھے قدم اُٹھائے اور پیٹھ دکھا کر خدا کے کام دوسروں کے سپرد کر کے آپ بھاگ جائے۔ پس یہ ایسی امانت نہیں ہے جس میں آپ کو اختیار ہے یہ امانت وہ ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے عواقب سے بے خبر ہو کر خود قبول کر لیا تھا، اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے اور جانتے علی ہوئے کہ اس سے مجھے بہت تکلیف پہنچے گی پھر بھی اس امانت کو جو ساری دنیا کی ہدایت کا بوجھ تھا اُٹھانے کے لئے آپ ﷺ تیار ہوئے اور جھولا (الاحزاب:۷۲) ان معنوں میں کہ اس کے عواقب سے بالکل بے پرواہ ہو گئے ہم تو اب اس امین کے غلام بن کر اس دنیا میں آئے ہیں۔ اس غلامی کا تعلق توڑے بغیر ہم اس امانت کا بوجھ اُٹھانے سے الگ نہیں ہو سکتے ۔ یہ وہ مضمون ہے جس کی جماعت احمدیہ میں عہدوں سے استعفیٰ ایک نہایت مکروہ اور بیہودہ حرکت سمجھی جاتی ہے۔ کئی لوگ وجہ سے صلى الله صلى الله صلى الله لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں معاف کیا جائے ہم اس قابل نہیں ہیں۔ قابل تو ایک ہی تھا یعنی محمد مصطفی ہی ہے ، عروسة : آپ ہی کی غلامی آپ ہی کے صدقے ساری دنیا قابل بنائی جارہی ہے اور آپ کے سب غلاموں 6