خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 901
خطبات طاہر جلدا 901 خطبه جمعه ۱۸ ردسمبر ۱۹۹۲ء کرتا چلا آتا ہے اور سیکرٹری مال کے تصور کے ساتھ ہی ایک محنتی ، پر خلوص ،امانت کا حق ادا کرنے والا ، دن رات اس فکر میں غلطاں کہ میرا بجٹ کیسے پورا ہو گا ایسے وجود کا ایک تصور ابھرتا ہے۔بالکل ایسا ہی تصور ہر ایک دوسرے شعبے کے سیکرٹری کے متعلق جماعت میں قائم ہونا چاہئے اور یہ تصور تبھی قائم ہو گا جب وہ ایسے کام کریں گے۔جہاں تک میں نے نظر دوڑا کر دیکھا ہے سیکرٹری مال الا ماشاء الله خدا کے فضل سے بہت محنت کرتے ہیں۔کراچی کے سیکرٹری مال مجھے یاد ہے کہ بہت بچپن کے زمانہ سے اب تک جو بھی رہے ان کا یہ حال رہا کہ وہ صبح دفتر جاتے تھے دفتر سے جماعت کے دفتر چلے جایا کرتے تھے، جماعت کے دفتر سے رات گیارہ بارہ بجے اس وقت گھر لوٹا کرتے تھے کہ جب بیوی بچے سب سو چکے ہوں اور یہ ایک دو دن ، ایک دو مہینے کی بات نہیں انہوں نے سالہا سال اسی طرح عمریں گزار دیں۔تو جو شخص امانت کی اہمیت سمجھتا ہو وہ امانت کا حق ادا کر نے لگے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بھی اس میں صرف ہو جائے تب بھی اس کے دل کو امانت کا حق ادا کرنے کا چین نصیب نہیں ہوسکتا۔وہ اپنی ذات میں یہ سمجھتا رہتا ہے کہ ابھی یہ کوتا ہی ہوگئی ابھی وہ کوتا ہی ہوگئی اور ابھی تک میں ویسا کام نہیں کر سکا جیسا کہ حق تھا۔اس جذبہ کے ساتھ جماعت کے عہدہ داروں کو پہلے اپنے منصب کو پہچاننا چاہئے ، اپنی ذمہ داریوں کا شعور حاصل کرنا چاہئے اس شعور کے مطابق پھر ان کا دل جاگ اُٹھے گا ان کا احساس زندہ ہو جائے گا۔انہیں اپنی ذات سے تکلیف ہونی شروع ہو جائے گی وہ محسوس کریں گے کہ ان پر قرض کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے اور یہ بوجھ ہے احساس کی شدت ہے جو ان کو کام کے لئے آگے بڑھاتی چلی جائے گی لیکن وہ احساس ہی بیدار نہ ہو، وہ شعور ہی بیدار نہ ہو، پتانہ ہو کہ ہم کیوں بنائے گئے کس مقصد کے لئے کیا ذمہ داریاں ہم پر ڈالی گئی ہیں تو جماعت کے کام اسی طرح پڑے رہیں گے۔پس دعوت الی اللہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انفرادی طور پر ان احمد یوں کی وجہ سے ہو رہا ہے جو مختلف تحریکوں کے نتیجہ میں خود اپنے دلوں میں ایک ولولہ پیدا کر لیتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جن کو پھر تبلیغ کا جنون ہو جاتا ہے وہ دن رات اس میں لگے رہتے ہیں اور سیکرٹری اصلاح وارشاد کا زیادہ تر کام یہ ہے کہ ان کے پھل سمیٹ کر اپنی طشتری میں سجا کر جماعت کو پیش کر دے۔طشتری تو طشتری ہی رہے گی اصل تو اس درخت کی قدر و قیمت اور اسی کی شان ہے جس درخت نے وہ پھل پیدا کیا۔