خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 900 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 900

خطبات طاہر جلد ۱۱ 900 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء تو اتنا حسین ، اتنا روشن چہرے والا انسان ہے کہ تیرے مقابل پر جب ہم نے شمع کو دیکھا تو نور کا کوئی نشان دکھائی نہ دیا۔پس یہ موازنہ کی باتیں ہیں شمع تو روشن ہی ہوتی ہے لیکن جب ایک روشن تر وجود شمع کے سامنے آجائے تو شمع کی روشنی مدھم اور پھیکی پڑ جایا کرتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سچی تعریف میں کسی اور بزرگ نبی کی برائی (نعوذ باللہ من ذالک ) ہرگز مقصود نہیں سب اپنی اپنی جگہ اچھے تھے۔سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے (درین صفحہ ۸۳۰) دیانت کی جوشان محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں چپکی ہے ویسی شان آپ ساری دنیا میں ڈھونڈ کر دیکھیں آپ کو کہیں اور دکھائی نہیں دے گی۔دوسرا امر جس کی طرف مجھے متوجہ کیا گیا ہے وہ ایک معمولی نقطہ ہے میں نے مثال دیتے ہوئے یہ بیان کیا تھا کہ تصنیف کا شعبہ بھی ایک اہم شعبہ ہے اور اس کا حق ادا کرنے کے کیا طریق ہیں وہ بھی تو ایک امانت ہے۔مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ باہر کی دنیا میں تصنیف کا شعبہ الگ نہیں ہے بلکہ اشاعت کے ساتھ ہی اس کا تعلق ہے۔عملاً تو کوئی بھی فرق نہیں پڑتا اشاعت میں تصنیف داخل ہویا تصنیف کا شعبہ الگ ہو جہاں تک ذمہ داریوں کا تعلق ہے وہ تو اسی طرح رہتی ہیں پس جماعتی امانتوں کے سلسلہ میں اب میں ایک دو اور مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اصلاح وارشاد یعنی تبلیغ اور دوسروں تک حق بات پہنچانا اور دعوت الی اللہ تمام بنی نوع انسان کو اللہ کی طرف دعوت دینا ایک بہت ہی اہم شعبہ ہے اور دنیا کے ہر ملک میں جہاں نظام جماعت قائم ہے وہاں خدا کے فضل سے یہ شعبہ بھی رائج ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے دعوت الی اللہ کے یا اصلاح وارشاد کے بہت کم سیکرٹری ایسے ہیں جنہیں اس بات کا شعور ہے کہ وہ ہیں کیا ؟ اور اپنے منصب کا یہ پتا نہیں، یہ علم نہیں کہ ان پر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں اور کس طرح وہ ادا کرنی ہیں؟ اگر تمام سیکرٹری اپنی پوری ذمہ داری سمجھتے ہوئے بیدار ہو جائیں اور فعال ہو جائیں تو ساری دنیا کی جماعتوں میں ایک شور برپا ہو جائے۔سیکرٹری مال کی مثال دیکھیں وہ ایک ایسا سیکرٹری ہے جو روایتہ مسلسل سالہا سال سے جماعت میں بڑی محنت اور خلوص سے اور مستقل مزاجی سے کام