خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 899 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 899

خطبات طاہر جلدا 899 خطبه جمعه ۱۸ ردسمبر ۱۹۹۲ء مطابق بہت عمدہ فیصلہ کیا اور اس کا بہت عمدہ تعارف کرایا لیکن اسے یہ کہنا کہ گویا ساری قوم نے حضرت موسیٰ کی امانت کی گواہی دی ہو یہ درست نہیں ہے۔جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے، انبیاء پر اس کے برعکس الزام تو لگے ہیں مگر قومی گواہی حضرت محمد مصطفی اللہ کے سوا کسی کے حق میں نہیں دی گئی۔مثلاً حضرت یوسف پر کہ جس کے گھر میں تھے اس گھر کی امانت پر خیانت کا الزام لگا تو خدا تعالیٰ نے اس الزام کو سراسر جھوٹا ثابت کر دیا لیکن یہ بعد کی بات ہے۔حضرت یوسف پر اپنے بھائیوں کی طرف سے چوری کا الزام بھی لگا۔حضرت کرشن پر ان کے اپنے ماننے والوں کی طرف سے چوری کا الزام ہے۔ان کا نام ہی مکھن چور رکھا ہوا ہے تو انبیاء بے چاروں کے اوپر ناجائز غلط الزام ، دل آزاری کے الزام لگتے رہے ہیں۔خود موسی“ پر بھی لگتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ أَذَوْا مُوسَى فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا ( الاحزاب : ۷۰) فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا اے ایمان والو ! دیکھو موسٹی کے لوگوں کی طرح نہ ہو جانا۔ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو غلط باتیں کہہ کر موسیٰ کو کھ پہنچایا کرتے تھے، غلط الزام اس پر لگایا کرتے تھے پس فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا اللہ نے اس کو بری فرمایا۔تو قوموں نے اپنے اپنے انبیاء سے نبوت سے پہلے بھی ظلم کے بڑے سلوک کئے ہوئے ہیں، کئی قسم کے الزام لگائے ہیں لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی اس لیے کا کردار واضح طور پر اتنا نمایاں، صاف اور واضح روشن تھا کہ تبھی قرآن کریم نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کو کہ دے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرً ا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: ۱۷) میں اس سے پہلے تم میں ایک پوری عمر گزار چکا ہوں تم سارے گواہ ہوا ایک ادنی سا ایک ذرہ بھی کردار کے داغ کا تم نے مجھ پر لگانے کی بھی کوشش نہیں کی۔پس حضرت محمد مصطفی امت ہے کی امانت اور دیانت اتنی صاف اور نمایاں اور روشن ہو کر چکی ہے کہ اگر چہ تمام انبیاء امین تھے ، تمام انبیاء دیانتدار تھے اس میں ذرہ بھی شک نہیں لیکن جب محمد رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان انبیاء کو رکھا جاتا ہے تو ویسی ہی کیفیت دکھائی دیتی ہے جیسے کسی نے کہا۔رات محفل میں تیرے حسن کے شعلے کے حضور شمع کے منہ پر جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا