خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد ۱۱ خطبه جمعه ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء ایسا ہی ایک واقعہ ایک ایسے صحابی کے ساتھ پیش آیا جن کو جب قتل گاہ پر لے جایا گیا۔دشمن کے نرغے میں آکر بعض اور صحابہ کے ساتھ وہ بھی پکڑے گئے تھے تو جب انہیں قتل گاہ میں لے جایا گیا اور تلوار ان کی گردن پر چلنے لگی تو انہوں نے آخری فقرہ یہ کہا کہ فُزْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ خدا کی قسم ! ربِّ کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیسی عجیب بات ہے۔فوز کی ایک نئی تعریف دنیا کے سامنے ابھری ہے اور یہی وہ تعریف ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔وہ فقرہ سن کر بہت سے کفار مکہ جو اس قتل میں شریک تھے ششدر رہ گئے ، حیران ہوئے کہ یہ کیسا جملہ ہے۔ایک شخص جو قتل ہونے کے قریب ہے اس کی زندگی کے چند لمحے باقی ہیں وہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ رب کعبہ کی قسم ! میں تو کامیاب ہو گیا۔یہ کیسی کامیابی ہے۔تب ان کی توجہ اسلام کی طرف پھری اور اس ایک جان نے بہت سی سعید رومیں اپنے پیچھے چھوڑ دیں۔ایک کامیابی تو ان کو وہ نصیب ہوئی کہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنے رب کے پیارے ہوئے اور ایک کامیابی وہ نصیب ہوئی کہ اگر ایک سرگردن سے اتر اتو اور کئی سر محمد رسول اللہ کی غلامی میں جھک گئے اور وہ جان ضائع نہیں گئی۔پس فوز کے یہ معنی ہیں جن کو جماعت احمدیہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر حصولِ مقصد ہم سے بہت دور دکھائی دیتا ہے تو زندگی کا ایک مقصد ایسا ہے جو ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہے اور وہ رضائے باری تعالیٰ کا حصول ہے اگر ہم خود اپنے نفس میں مطمئن ہو جائیں کہ ہمیں رضائے باری تعالیٰ حاصل ہو رہی ہے ، ہم پر اس کے پیار کی نگاہیں پڑ رہی ہیں تو سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اس سے بڑی اور کوئی کامیابی نہیں۔جلسہ سالانہ کے متعلق چند مختصر باتیں میں جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔وہ جلسہ کے بعد پہلی بار یہ خطبہ سن رہی ہیں اس لئے ان کو توقع ہوگی کہ قادیان سے متعلق اور جلسہ سے متعلق میں اپنے کچھ تاثرات بیان کروں۔یہ مضمون بہت مشکل ہے کیونکہ دل کی جو کیفیات تھیں اور ہیں ان کا بیان ممکن نہیں۔ایک عجیب خواب کی سی دنیا سے نکل کر ہم آئے ہیں۔جو مناظر ہم نے جلسہ میں عشق اور محبت کے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر فدائیت کے نظارے دیکھے، تمام دنیا سے آئے ہوئے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پروانے اس بستی میں بہت تکلیفیں اٹھا کر جمع ہوئے۔ہندوستان کے کونے کونے سے اس کثرت سے احباب جماعت یہاں