خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 894
خطبات طاہر جلد ۱۱ 894 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء اخباروں اور دانشوروں اور سیاستدانوں نے ان واقعات کی مذمت ضرور کی ہے آگے بڑھ کر روکنے کی صلى الله توفیق نہیں تھی تو مذمت تو ضرور کر دی گویا ایمان کے ادنی تقاضے تو ضرور پورے کر دیئے۔آنحضرت لے نے یہ تصویر کھینچی ہے کہ اعلیٰ ایمان تو یہ ہے کہ آگے بڑھو اور بدی کو روک دو اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو کم از کم زبان سے روکو اگر زبان سے نہیں روک سکتے تو برا تو مناؤ۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۸۵) پاکستان میں کتنے ہیں جنہوں نے زبان سے روکا ہو جنہوں نے آواز اُٹھائی ہو۔اب کہیں کہیں یہ آواز اُٹھنے لگی ہے مگر اس سے پہلے تو مکمل خاموشی تھی۔پس یہ بھی تو باتیں ہیں کہ جن کی طرف دھیان جاتا ہے اور اس وجہ سے میں ان حقائق کو جو بہت تلخ ہیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ حقیقت میں مسلمانوں کی اس بدقسمتی کے دور کا علاج یہ ہے کہ راہنماؤں کو ان غلطیوں کی طرف متوجہ کیا جائے اور مشورہ دیا جائے کہ بیماری یہاں واقع ہے اس بیماری کو دور کرنے کی طرف توجہ دو پھر خدا کا فضل ضرور نازل ہوگا۔وہ مساجد جو ہندوستان میں منہدم کی گئی ہیں وہ ظلم ہمارے دل پر اس سے زیادہ گراں گزرا ہے جو تمہارے دلوں پر گزرتے ہیں کیونکہ ہمیں خدا کی عبادت سے محبت ہے، عبادت گاہوں سے تعلق ہے۔دنیا میں کہیں بھی کوئی عبادتگاہ مسمار کی جائے گی تو احمدی کے دل پر اس کا ملبہ اس طرح گرے گا جس طرح اس کے دل پر چوٹ لگانے کی خاطر ایک ایک اینٹ اوپر گر رہی ہو لیکن تمہیں تو عادت ہے تمہیں تو اس بات کا ایک تجربہ ہے کہ کس طرح گھر برباد کئے جاتے ہیں تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔پس احمدی کو تکلیف ہے تکلیف کی وجہ سے میں یہ بات بیان کر رہا ہوں میں جانتا ہوں اس کے سواحل ہی کوئی نہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے، اپنی اصلاح نہیں کرو گے اور خدا کے تعلق کی بنا پر اپنی سوچ کی اپنی قدروں کی اصلاح نہیں کرو گے اگر اپنے قبلے درست نہیں کرو گے تو اسی طرح بھٹکتے رہو گے ، اسی طرح ظلم کا شکار رہو گے۔تقویٰ سے کام لو اور تقویٰ کی حکومت کو قائم کرو آج سارے پاکستان کے اخبار ہندوستان کو طعنہ دے رہے ہیں کہ کیا ہوئی تمہاری سیکولر حکومت، کیا ہوا تمہارا سیکولر فلسفہ اس ملبہ کے ڈھیر کے نیچے تمہارا سیکولر ازم بھی دب کر مرگیا۔لیکن کل جو احمدی مساجد مسمار ہو رہی تھیں تو ان کے ملبے کے نیچے کیا چیز دب کر مری تھی۔کبھی تم نے سوچا ہے؟ وہ اسلام جس کا تم دعوی کر رہے تھے وہ فرضی اسلام ان ملبوں کے ڈھیر کی نظر ہو گیا وہ اعلیٰ قدریں جن کا تم دعوی کرتے ہو وہ سب قدرمیں ان ڈھیروں کے نیچے دم تو ڑگئی تھیں۔