خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 887 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 887

خطبات طاہر جلد ۱۱ 887 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء جماعتوں کے احباب کی طرف سے جو خطوط ملتے ہیں ان کو پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ اخبارات میں تو کچھ بھی نہیں جن لوگوں نے آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے، بہت ہی دردناک حالات لکھے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ رکنے والے نہیں ہیں۔یہ آگے بڑھیں گے اور اس میں گہری سازشیں ہیں لیکن باوجود اس کے کہ یہ لوگ مشرک ہیں، باوجود اس کے کہ فی الحقیقت اسلام سے دشمنی رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان سے ایک روائتی دشمنی چلی آرہی ہے جو اس مذہبی دشمنی پر مستزاد ہے لیکن پھر بھی ان کی حکومتوں کوان کے سربراہوں کو اتنی عقل ضرور ہے کہ دنیا کو منہ دکھانے کے لئے کچھ نہ کچھ کوشش کریں وہ اپنے عیوب کو، اپنی غلطیوں کو اس طرح ڈھانپ کر آگے بڑھتے ہیں کہ دیکھنے والے کو بتاسکیں کہ ہاں یہ بدیاں تو ہیں لیکن ہمارے اختیار سے باہر تھیں۔ہم اس کی تائید میں نہیں چنانچہ مبصرین نے اس وقت تک جو بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجودھیا کی مسجد کے سلسلہ میں مرکزی حکومت نے آنکھیں بند کیں اور یہ واقعہ ہونے دیا اور یوپی کی حکومت پوری طرح اس میں ملوث تھی لیکن مرکزی حکومت نے اس کی مذمت ضرور کی ہے اور واقعہ ہونے کے معا بعد اس حکومت کو برطرف کر دیا یہ بھی کوئی مذہبی کارروائی نہیں تھی، کسی نیکی پر مبنی نہیں تھی مگر کم سے کم عقل پر مبنی ضرور تھی انہوں نے ایک قانونی سہارا لیا کہ جس صوبے میں ہمارا براہ راست عمل دخل نہیں ہے اس میں ہونے والے واقعات سے متعلق ہم متنبہ کرتے رہے ہیں اس صوبے کو اور بتاتے رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور جب ہوا تو اسی وقت ہم نے اس حکومت کو معطل کر دیا اور اسی وقت دوسری کا رروائی شروع کر دی یعنی دنیا کو دکھانے کیلئے ایک معقول طرز عمل خواہ وہ گہرا تھا یا سطحی تھا ایسا ضرور پیش کیا گیا ہے جس سے دنیا کی جو رائے عامہ ہے اس پر اچھا اثر پڑ سکتا ہے۔گود نیا کسی حد تک یہ کہہ سکتی ہے کہ آپ نے عمداً ایسا ہونے دیا آپ اس شرارت میں دراصل شریک ہیں اس صوبے کی حکومت سے سیاسی انتقام لینا چاہتے تھے۔اس سیاسی انتقام لینے کی خاطر آپ نے خود اس واقعہ سے آنکھیں بند رکھیں پتا تھا کہ ہو گا لیکن جان کر ہونے دیا یہ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن کچھ کوشش تو ضرور کی ہے۔وہاں کے اخبارات نے جو تبصرے کئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ساری قوم میں ندامت کا ایک احساس بھی موجود ہے ایک حیا بھی ہے جس کا ذکر کیا جارہا ہے اور بعض اخبار نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ایسے داغ اب ہمارے کردار پر لگ گئے ہیں وہ خون جو اجودھیا میں اور باہر بہایا گیا اس خون نے ہمارے کردار پر ایسے دھبے لگا دیئے ہیں جو