خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 885 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 885

خطبات طاہر جلد ۱۱ 885 خطبہ جمعہ ا ار دسمبر ۱۹۹۲ء پھر وہ حالات پیدا کردیں کہ جس طرح ہما را دعوی ہے ہندوستان صرف ہندؤوں کے لئے ہے مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔یہ نعرہ لے کر ہم اس آگ کو پھیلاتے رہیں اور بھڑکاتے رہیں اور مسلمان مظلوموں کو اس میں جھونکتے رہیں۔یہ ان کا کھلا کھلا دعوی تھا آج بھی ہے اور خدا کی تقدیر جب تک اس کو سزا نہیں دیتی کل بھی یہی رہے گا۔اس دعوئی کی تائید میں باہر بعض ایسی ظالمانہ کارروائیاں کی گئی ہیں جو انتقامی کارروائیاں نہیں بلکہ ہندوستان کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہیں پس ان کارروائیوں میں نہ ایمان کا نور ہے نہ عقل کی روشنی ہے محض جاہلانہ کارروائیاں ہیں جنہوں نے ویسے بھی اسلام اور اسلام کی مخالفانہ طاقتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہم کر کے دکھا دیا ہے۔اب خبروں والے کہتے ہیں کہ وہاں بمبئی میں اتنے بچے جلائے گئے اور کوئٹہ میں اتنے بچے جلائے گئے، ہندوستان میں اتنی مساجد منہدم کی گئیں اور پاکستان میں اتنے مندر منہدم کئے گئے۔تعداد کا فرق رہا لیکن جرم کی نوعیت میں تو کوئی فرق نہیں غیر انسانی حرکتوں میں تو کوئی فرق نہیں رہا۔پس وہ لوگ جنہوں نے محمد مصطفی اللہ کے دین کو غیر اللہ کے دین سے اس طرح متشابہ کر کے دکھایا ہے انہوں نے بڑا بھاری ظلم کیا ہے۔اگر وہ بچے استغفار سے کام نہ لیں اور تو بہ نہ کریں تو خدا کی تائید تو در کنار ان کو یہ خوف دامن گیر ہونا چاہئے کہ خدا کی مزید پکڑ کے نیچے نہ آجائیں۔اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کی تائید کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے حضرت محمد رسول الله تعالی علیہ عرب کے مشرکین کے مقابل پر عددی لحاظ سے اس سے کم حیثیت تھی جتنی آج ہندوستان کے مسلمانوں کو وہاں کے مشرکین کے مقابل پر حیثیت ہے۔نسبتی لحاظ سے آپ دیکھیں گنتی کے جتنے چند مسلمان مدینہ میں تھے یا چند بستیوں میں اتحاد کا موجود تھے ان کے مقابل پر سارا مشرک عرب کتنی بھاری طاقت تھی یہ اتنی بھاری طاقت تھی کہ حقیقت میں اس کی ایک اور سو کی جتنی نسبت نہیں تھی یعنی اگر مسلمان کی ایک طاقت تھی تو اس کے مقابل پر سویا اس سے زیادہ کی طاقت عرب مشرکین کے پاس تھی لیکن دیکھیں خدا کی تقدیر نے نتائج کیا ظاہر کئے ہیں اس ایک کوسو کے برابر طاقتور کر دیا اور ان سو کی طاقت چھین کر ایک کے برابر بھی نہ رہنے دی۔یہ نصرت الہی کا ہاتھ ہے۔یہ اگر اسلام کی تائید میں عرب میں اُٹھ سکتا تھا اور چل سکتا تھا تو کیوں ہندوستان میں نہیں اُٹھ سکتا اور نہیں چل سکتا۔کون ہے جو خدا کے ہاتھ کو روک سکے ؟ لیکن اپنی ادائیں ان لوگوں والی بنائیں جو محمد رسول اللہ ہے اور