خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 883 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 883

خطبات طاہر جلد ۱۱ 883 خطبہ جمعہ ۱۱ار دسمبر ۱۹۹۲ء قبضہ رہے اگر سچی عبادت کرنے والے نہیں ہونگے یا خدا سے تعلق بگڑ چکے ہوں گے تو پھر خدا کی غیرت کوئی جوش نہیں دکھائے گی۔اس کی طرف عالم اسلام کو توجہ کرنی چاہیئے اور فکر کرنی چاہئے اپنے ردعمل کا جائزہ لینا چاہئے۔معلوم کرنا چاہئے کہ کس حد تک انہوں نے خدا کی خاطر ایسا کیا، کس حد تک قومی دشمنیوں اور دیرینہ عداوتوں کے نتیجہ میں ایسا کیا گیا اگر خدا کے گھر کی محبت کے نتیجہ میں کوئی رد عمل دکھایا جائے اور رد عمل دکھانے والا مخلص ہو اور واقعہ خدا کی محبت میں سرشار ہو تو خدا کی تقدیر اس کی حمایت میں ضرور کھڑی ہوگی ناممکن ہے کہ اسے پشت پناہی کے بغیر خالی چھوڑ دیا جائے۔اس وقت جو نظارہ دکھائی دے رہا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کا کوئی یار و مددگار نہیں رہا حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ غیروں کا کوئی مولی نہیں ہے لیکن مومنین کا مولیٰ ہے۔جو خدا کے ہیں ان کا ایک والی ، ان کا ایک مددگار، ان کا ایک نصیر موجود ہے۔بے سہارا لوگوں کے حالات اور ہوا کرتے ہیں۔سہارے والوں کے اور ہوا کرتے ہیں اور جن کی پشت پر خدا کھڑا ہو کیسے ممکن ہے کہ ان کے حالات بے سہاروں والے ہو جائیں۔پس بنیادی فکر کا پیغام یہ ہے کہ کیا ہماری پشت پر خدا نہیں رہا یعنی عالم اسلام کو اس بات پر غور کرنا چاہئے اگر نہیں رہا تو کیوں نہیں رہا وہ تو بے وفائی کرنے والا خدا نہیں ہے۔یقیناً ہم نے بے وفائی کی ہے۔پس مرض کو پکڑے بغیر ہرگز آپ کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔مرض کہیں اور واقع ہے علاج کہیں اور ہورہا ہے۔رد عمل خالصہ خدا کی خاطر نہیں ہے۔اگر رد عمل خدا کی خاطر ہوتے تو ہندوستان میں اگر مسلمانوں کو آگ میں زندہ جلایا گیا تو پاکستان میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا کہ کسی ہند و کو زندہ آگ میں جلایا جاتا۔جو بدنمو نے ان لوگوں نے دکھائے اسلام کی تعلیم مسلمانوں کو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ وہ بد نمونے تم اپنی جگہ دکھاؤ۔قرآن کریم کی تعلیم بالکل واضح اور کھلی کھلی ہے اور انصاف پر مبنی ایسی عظیم الشان تعلیم ہے کہ اس کی کوئی مثال دنیا کی کسی اور کتاب میں دکھائی نہیں دیتی۔انتقام کی اجازت ہے مگر ان لوگوں سے جن لوگوں نے وہ جرم کیا ہو۔وہ لوگ جو اس جرم میں ملوث نہیں ہیں ان سے ظالموں کے ظلم کا انتقام لینا ایک نیا ظلم ہے، اسے انتقامی کارروائی نہیں کہا جاتا۔پس اگر کوئی کسی مسلمان کو آگ میں ڈالتا ہے یا ہندو یا سکھ یا عیسائی کو آگ میں ڈالتا ہے