خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 877
خطبات طاہر جلد اا 877 خطبه جمعه ۱۱ دسمبر ۱۹۹۲ء اجودھیا اور بابری مسجد کے مسمار کرنے پر مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے تھا ؟ احمد یہ مساجد کو مسمار کرنے سے خدا کی تائید اٹھ گئی ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده اار دسمبر ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقره: ۱۱۶ ۱۱۵) پھر فرمایا :۔ یہ دور عالم اسلام کے لئے بہت ہی درد ناک دور ہے اور مسلمانوں پر بہت کڑے دن گزر رہے ہیں۔ لمبا عرصہ ہو گیا کہ مصیبتوں اور ابتلاؤں کا جو ایک سلسلہ جاری ہوا ہے وہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ایک ابتلاء کے بعد دوسرا ابتلاء سر اُٹھا لیتا ہے ان تمام ابتلاؤں میں اور ان آزمائشوں میں یقیناً خدا تعالیٰ کا کوئی پیغام ہے جسے سننے سے بعض کان بہرے ہیں اور جسے پڑھنے سے بعض آنکھیں اندھی ہیں اور اس لائق نہیں کہ تقدیر کی تحریریں پڑھ سکیں کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو