خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد ۱۱ 83 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء دے رہا تھا کہ ایسا عشق مجھ سے اور کوئی نہیں کرے گا اور اس کے جواب میں اس کو بتانے کی خاطر کہ میری تیرے دل پر نظر ہے ، خدا نے مجھے تیری کیفیات سے آگاہ فرما دیا ہے۔یہ حکم دیا کہ جو کوئی بھی اس آواز کو سنے وہ برف کے تو دوں پر سے بھی گھٹنوں کے بل چلے اور وہاں پہنچے اور امام مہدی علیہ السلام کو میر اسلام کہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب لدھیانہ میں تشریف لے گئے اور وہاں غیروں نے اکٹھے ہو کر شور کیا اور بڑے گندے رنگ میں بہت مخالفت کا اظہار کیا تو اس وقت چوٹی کے ایک مولوی جن پر اُن کی نظر تھی کہ یہ مسیح موعود علیہ السلام کو نعوذ باللہ مغلوب کر سکتے ہیں اُن کو او پر بھیجا گیا اور ان کی یہ کیفیت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھتے ہی اُن کے دل نے یہ گواہی دی کہ یہ سچا ہے۔کوئی کج بحثی کی بجائے مخالفت کی بات کرنے کی بجائے آپ نے صلى الله۔کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی اور کہا کہ میں آج محمد مصطفی علیہ کا سلام آپ کو پہنچا تا ہوں کیونکہ آپ ہی سچے مہدی ہیں ، آپ ہی کے متعلق ہمیں حکم ملا ہے۔پس وہ قرب جس کا اس حدیث میں ذکر ہے اسی قرب کا سورۃ جمعہ میں بھی ذکر ہے اور اس آواز پر کیسے لبیک کہنا ہے اس کا اِن کھلی کھلی احادیث میں ذکر ہے۔پس جماعت احمدیہ کو جمعہ کے ساتھ بہت گہری وابستگی ہے اور جمعہ کے عظیم معنوں میں جمعہ کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم ہوا ہے جودنیا کی کسی جماعت کو کبھی اس طرح نصیب نہیں ہوا۔پس جمعہ کے ساتھ جیسا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہہ کر تعلق جوڑا ہے اسی طرح اس جمعہ سے بھی تعلق جوڑیں کیونکہ یہ جمعہ اور مسیح موعود علیہ السلام کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔آپ کا نام جمعہ رکھا گیا اس لئے لازم ہے کہ ہم اس جمعہ کی ظاہری تقریب کو بھی ایک تقدس کا مقام دیں۔ایک محبت کا مقام دیں۔ایک عزت اور احترام کا مقام دیں۔آپ بھی اس کے ساتھ وابستہ ہوں۔اپنی اولا دوں کو بھی اس کے ساتھ وابستہ کریں اور اب جبکہ خدا تعالیٰ نے یورپ کے براعظم کے ساتھ یہ احسان کا سلوک فرمایا ہے اور اس احسان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ کی ہجرت کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔جس علاقے نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والے کو پناہ دی ہو اس علاقے کے مقدر میں کچھ برکتیں لکھی جاتی ہیں۔کچھ سعادتیں اس کو نصیب ہوتی ہیں ، پس یہ سعادت بے وجہ نہیں ہے۔انگلستان نے اس ہجرت میں جماعت احمدیہ کے مرکز کو پناہ دی ہے اور یہ مقدر تھا۔