خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 82
خطبات طاہر جلداا 82 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء صلى الله عليو سے جائزہ لینے کا تعلق ہے مجھے تو اس کا موقع نہیں ملا لیکن اگر کسی مفسر نے ذکر نہ بھی کیا ہو اور غیر احمدی مولویوں کی عادت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس قسم کے دُعاوی پر وہ کوشش کرتے ہیں ، تلاش کرتے ہیں کہ کسی ایک مفسر کو جو چاہے کیسی بھی ثانوی حیثیت رکھتا ہو تلاش کر کے اس کی کتاب نکال کر دکھا ئیں کہ اس میں تو ذکر نہیں ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عارفانہ کلام کو سمجھتے ھتے ہی نہیں اور نہ حضرت محمد مصطفی امی کے کلام کو سمجھتے ہیں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ ذکر عام ہوتا اور اگر کسی ایک بھی مفسر کو اس سے اختلاف ہوتا اور وہ اتفاق نہ کرتا تو وہ ضرور اس بات کا اظہار کرتا ۔ اسی لئے شروع میں میں نے ان معنوں میں یہ دعوی کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس دعوی کو میں انہی معنوں میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی مراد یہ ہے کہ بڑے بڑے مفسرین نے کھول کھول کر آئیندہ زمانہ کے غلبہ اسلام اور بنی نوع انسان کے ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے کو مسیح موعود کے دور سے وابستہ فرمایا اور امام مہدی کے دور سے وابستہ فرمایا اور جنہوں نے یہ ذکر نہیں کیا انہوں نے خاموشی کے ساتھ اس بات پر صاد کر دیا کہ ان کو بھی اس مضمون سے اتفاق ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کی آواز پر لبیک کہنا آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنا یہ یہی مضمون ہے کوئی باہر کا مضمون نہیں۔ چنانچہ اس مضمون پر مزید روشنی آنحضرت ﷺ کی ایک اور حدیث سے پڑتی ہے آپ نے فرمایا کہ جب تمہیں پتا چلے کہ امام مہدی ظاہر ہوا ہے۔ امام مہدی نے کسی جگہ اپنے آنے کا اعلان کیا ہے تو اُس کی طرف جاؤ خواہ تمہیں برف کے تو دوں پر گھٹنوں کے بل بھی اس تک پہنچنا پڑے۔ (ابن ماجہ کتاب الفتن حدیث نمبر (۴) یہ وہی اذان کا جواب ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ سورہ جمعہ میں ذکر ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی اذان سے اس کا تعلق ہے ورنہ آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں فرمایا کرتے تھے۔ وحی پربینی با تیں تھیں اور قرآنی مضامین کو سمجھ کر انہی مضامین کو اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے کہ اگر تم سنو کہ امام مہدی ظاہر ہو گیا ہے تو خواہ برف کے تودوں پر یعنی گلیشیرز پر سے گھٹنوں کے بل بھی چل کر جانا پڑے تو اس تک پہنچو اور پہنچ کر کیا کرو ۔ ایک حدیث میں آتا ہے اُسے میر اسلام کہو۔ صلى الله عروسه اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے عاشقوں کا کتنا خیال ہے کہ آخر تک کے تمام زمانے پر نظر ڈال کر ایک ایسا عاشق نظر آیا جس کے متعلق آپ کا دل یقین کے ساتھ گواہی